خطبات محمود (جلد 16) — Page 809
خطبات محمود ۸۰۹ سال ۱۹۳۵ء کہیں گے کہ تم اپنی ساری قربانیاں گھر لے جاؤ پھر بھی سلسلہ کو کوئی ضعف نہیں پہنچے گا۔ تم مرتد ہو جاؤ گے، چلے جاؤ گے ، پھر بھی سلسلہ ترقی کرے گا ۔ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۔ یہ مت خیال کرو کہ ہم پر ہی ساری ذمہ داریاں ہیں اگر ہم یہ کام نہ کریں گے اور کون کرے گا ۔ جس خدا نے تمہیں ایمان دیا تھا وہ مرتد بھی کر سکتا ہے اور دوسروں کو ایمان نصیب کر سکتا ہے ۔ پس اگر تم گھروں سے نہ نکلو گے تو پہلے ہم تمہیں دشمنوں سے عذاب دلوائیں گے اور پھر مرتذ کر کے اگلے جہان میں خود عذاب دیں گے تم یہ نہ سمجھو کہ ایمان کے بعد ارتداد کس طرح ہو سکتا ہے۔ ارد گرد دیکھو۔ کتنے ہیں جو سستیوں کی وجہ سے ارتداد کی طرف چلے گئے ہیں ۔ ایک ارتداد کا درمیانی طبقہ پیغامی ہیں جن کا بڑا کام آج صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درجہ کی تخفیف کرنا رہ گیا ہے ۔ وہ بڑی بے تکلفی سے کبھی ظلی نبوت کی تخفیف کریں گے ، کبھی کہیں گے کہ ظل کو تو جوتے مار نے بھی جائز ہوتے ہیں ۔ ان میں اگر کوئی سمجھ دار ہو اور غور کرے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو عظمت ان کے دلوں میں پہلے تھی ، کیا اب بھی وہی ہے تو اُسے بڑا فرق نظر آئے گا ۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ قسم کھا کر کہہ سکتے ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق جو عقیدت ان کے دلوں میں پہلے تھی وہی اب ہے۔ غیر احمد یوں سے پوچھ کر دیکھ لو کہ ان لوگوں کے دلوں میں احمدیت کے لئے جو جوش پہلے تھا کیا اب بھی ہے ؟ غالبا وہ بھی یہی شہادت دیں گے کہ پہلے وہ احمدیت کا بہت جوش رکھتے تھے مگر اب وہ سرد ہے ۔ پھر ان سے آگے چلے جاؤ تو وہ لوگ بھی موجود ہیں ۔ جو حقیقی معنوں میں مرتد ہو چکے ہیں اور گالیاں دینا ان کا صبح شام کا شغل ہے۔ پس یہ نا ممکن امر نہیں اور مؤمن کو ہر وقت ڈرتے رہنا چاہئے کہ کہیں سستی کی سزا میں ایمان ضائع ہو کر ارتداد کا عذاب نہ نازل ہو جائے ۔ اس کے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَأَنْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَه بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ۔ فرمایا ۔ خدا تعالیٰ تو تمہیں ثواب حاصل کرنے کا موقع دینا چاہتا ہے ورنہ اگر تم مدد نہ بھی کرو گے تو بھی خدا خود اپنے رسول کی مدد کرے گا ۔ اور خدا تعالیٰ اس سے پہلے ایسے اوقات میں اس کی امداد کر چکا ہے جبکہ اس کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا۔ اگر بندوں کی مدد سے ہی اس کا کام چل سکتا ہے تو اُس وقت اُس کی کون مدد کرتا تھا ۔ تم سارے تو اُس وقت تلواریں لئے