خطبات محمود (جلد 16) — Page 764
خطبات محمود ۷۶۴ سال ۱۹۳۵ء ہے ۔ خدا سے کہ بعض لوگ چھ سات گھنٹے کام کرنے کو احسان سمجھ لیتے ہیں اور پھر نا کامی کو قسمت پر ڈال دیتے ہیں حالانکہ گستاخ اور بے ادب ہے وہ وہ شخص جو سمجھتا ہے کہ نا کامی خدا کی طرف سے آتی ہے ۔ خد ہمیشہ کامیابی آتی ہے اور جو نا کامی کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی ہتک کرنے والا ہے پس جب تک کوئی یہ نہ سمجھے کہ ناکامی کا میں ذمہ دار ہوں وہ اپنے آپ کو وقف نہ کرے۔ میں نے دیکھا ہے کئی لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ ناکامی ہوئی تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے کیا کامیابی ہمارے اختیار میں ہے؟ لیکن ایسے خیالات سے قوم میں سُستی پیدا ہوتی ہے ۔ یورپین قوموں میں ناکامی کے عذر کو قبول نہیں کیا جاتا اور جو نا کام ہوا سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے کہ بس تم اس کام کے اہل نہیں ۔ اس لئے تم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ جو کام بھی اُس کے سپر د کیا جائے اُس میں کامیاب ہو کر دکھائے ۔ دیکھو ! دیکھو ! زمینیں ہماری اچھی ہیں اور کثرت سے ہیں مگر ہمارے ہاں زمیندار اگر کوئی ملازم رکھیں تو اسے چند من غلہ کے سوا کوئی اُجرت نہیں دے سکتے ۔ مگر امریکہ والے زمیندار اپنے ملازموں کو دو دو سو روپیہ تنخواہیں دیتے ہیں اور پھر وہ اتنا غلہ پیدا کرتے ہیں کہ ہمارے ملک کا دیوالہ نکال دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ پاگل ہو کر کام کرتے ہیں ۔ میں نے لنڈن کی گلیوں میں کسی آدمی کو چلتے نہیں دیکھا ۔ سب بھاگے پھرتے ہیں ۔ جب میں وہاں تھا تو ایک دن مجھ سے حافظ روشن علی صاحب مرحوم نے پوچھا کہ کیا آپ نے یہاں کسی آدمی کو چلتے بھی دیکھا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا کسی قریبی کے مکان کو آگ لگی ہوئی ہے اور اسے بجھانے جا رہے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ تیزی سے وہ لوگ چلتے ہیں پس مجھے ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو خود پاگل ہوں اور دوسروں کو پاگل کر دیں ۔ یہ اتنے بڑے ثواب کا کام ہے کہ ایسے شخص کا : ایسے شخص کا نام صدیوں تک : زنده ره سکتا ہے اور اگر روپیہ آ جائے تو ایسے لوگوں کی خدمت کرنے سے بھی سلسلہ کو دریغ ریغ نہیں ہو سکتا ۔ مثلاً اگر پندرہ ہزار منافع ہو جائے تو اس میں سے کام کرنے والے کو چار پانچ سو یا ہزار دینے میں بھی کیا عذر ہو سکتا ہے گویا اس کام میں دنیوی طور پر بھی فائدہ ہونے کا امکان ہے جو دوست ان کاموں سے واقف ہوں وہ یہ بھی مشورہ دیں کہ کیا کیا کام جاری کئے جائیں ۔ میرے ذہن میں تو لکڑی کا کام مثلاً میز کرسیاں بنانا ، لوہے کا کام جیسے تالے ، کیل کانٹے اور اسی قسم کی دوسری چیزیں جو دساورے کے طور پر بھیجی جا سکتی ہیں چمڑے کا کام یعنی بوٹ ، اٹیچی کیس وغیرہ چیزیں تیار کرانا ہے ۔ ہماری جماعت