خطبات محمود (جلد 16) — Page 741
خطبات محمود ۷۴۱ سال ۱۹۳۵ء اُن سے سب کچھ لے لیا جاتا اور انہیں تمہارے ساتھ بغیر دریوں کے فرش پر بیٹھ کر یہ باتیں سننے کا موقع میسر آتا ۔ پس ہوشیار ہو جاؤ اور اس تحریک کے ہر شعبہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو جو میں نے تمہارے سامنے پیش کی ۔ اور یاد رکھو یہ پہلا قدم ہے جو تمہیں اُٹھانے کے لئے کہا گیا۔ اور اپنے دل سے یہ خیال نکال دو کہ تمہارے لئے دنیا میں کوئی آرام کا موقع ہے ۔ عاشق کے لئے کوئی آرام نہیں ہوتا سوائے معشوق کے مل جانے کے۔ صلى الله ۔ صلى الله میں تمہیں عشق الہی ایک مثال کے ذریعہ سے سمجھاتا ہوں ۔ رسول کریم ﷺ نے بدر کی جنگ میں ایک عورت کو دیکھا جو دیوانہ وار ادھر اُدھر پھر رہی تھی اور لڑائی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اضطراب کے ساتھ کبھی ایک طرف جاتی کبھی دوسری طرف ۔ رسول کریم ﷺ نے اُسے دیکھا اور آپ کا دل جو محبت کا ا لازوال خزا نہ تھا کیف عشق سے لبریز ہو گیا ۔ آپ نے صحابہ سے کہا تم نے دیکھا یہ عورت کس اضطراب سے اِدھر اُدھر پھر رہی ہے ۔ اس کا بچہ گم ہو گیا ہے اور یہ اُس کی تلاش کر رہی ہے ۔ اُس وقت نہایت خون ریز لڑائی جاری تھی ، بڑے بڑے جری اور بہادر سپاہی مسلمانوں کی تلواروں کی تاب نہ لا کر میدانِ جنگ سے بھاگ رہے تھے ۔ اور مکہ کے وہ صنادید جنہیں اپنے زور بازو پر ناز تھا اور سمجھتے تھے کہ کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا ، اپنی سواریوں کو ایڑیاں مار مار کر بدر کے میدان سے لگا کر دور لے جانا چاہتے تھے ، عین اُس حالت میں وہ ضعیف دل عورت تلواروں کے سایہ کے نیچے بھاگتی ہوئی اپنے گمشدہ بچہ کی جستجو کر رہی تھی ۔ یہ نظارہ کوئی معمولی نظارہ نہ تھا ۔ رسول کریم ﷺ نے اُسے دیکھا اور آپ اس سے متاثر ہوئے اور آپ نے صحابہ کو بھی یہ نظارہ دکھا یا آخر جستجو کرتے کرتے اُس عورت کو اُس کا بچہ مل گیا ۔ اُس نے اسے اُٹھا لیا اور محبت اور پیار سے اپنے سینہ سے چمٹالیا ۔ کوہ بھول گئی اس بات کو کہ یہ بدر کا مقام ہے جہاں خون ریز جنگ ہو رہی ہے ، وہ بھول گئی اس بات کو کہ اس جنگ میں اس کے بھائی بند قتل ہو کر ڈھیر ہو رہے ہیں ، وہ بھول گئی اس بات کو اس کے عزیز اور اس کے ہم وطن چاروں طرف زخمی ہو کر تڑپ رہے ہیں ، وہ بھول گئی اس بات کو کہ اُس کی قوم کے سردار سرتا پا خون سے لتھڑے ہوئے بھاگتے ہوئے لشکر کو سمیٹنے کی کوشش میں مشغول ہیں ، وہ بھول گئی اس بات کو کہ اُس کی قوم کی عزت خاک میں ملائی جا رہی ہے ، وہ بھول گئی اس بات کو کہ وہ اس وقت مکہ میں امن سے نہیں بیٹھی ہوئی بلکہ بدر کے میدان میں چاروں طرف سے اپنی قوم کے دشمنوں سے گھری