خطبات محمود (جلد 16) — Page 656
خطبات محمود ۶۵۶ سال ۱۹۳۵ء تھا اس نے بغیر تحقیقات کے یمن کے گورنر کو خط لکھا کہ عرب کے جس شخص نے نبوت کا دعوی کیا ہے کے ہمارے پاس بھیج دو۔ گورنر یمن نے اپنے چند آدمی آنحضرت ﷺ کی خدمت اُسے گرفتار کر کے ہمارے الله میں بھیج دیئے اور کہلا اور کہلا بھیجا کہ بے شک یہ حکم ظالمانہ ہے اور آپ نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی کہ جس سے شاہ ایران کو غصہ پیدا ہو لیکن چونکہ وہ طاقتور بادشاہ ہے اس لئے آپ کی طرف سے انکار کی صورت سلوکی ۔ صلى الله نے میں وہ عرب کو تاخت و تاراج کر دے گا آپ آ جائیں اور میں سفارش کر دوں گا کہ آپ سے کوئی بد نہ ہو۔ جب یہ قاصد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ پیغام دیا تو آپ ۔ فرمایا کہ اچھا ہم گل جواب دیں گے ۔ دوسرے دا ۔ دوسرے دن وہ پھر جواب کے لئے گئے مگر آپ نے پھر ا گلے روز جواب دینے کو فرمایا اور اگلے روز پھر فرمایا کہ گل جواب دیں گے ۔ اس طرح جب تین راتیں گزر گئیں تو ان قاصدوں نے کہا کہ ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ اس طرح ٹال مٹول نہ کریں گورنر یمن نے آپ کی سفارش کا وعدہ کر لیا ہے ورنہ اگر شاہ ایران کو غصہ آ گیا تو عرب کی حیثیت ہی کیا ہے ، وہ اسے بالکل تباہ کر دے گا ۔ اس پر آپ نے فرمایا سنو ! اپنے گورنر سے جا کر کہہ دو کہ میرے خدا نے تمہارے خدا کو آج رات مار دیا ہے ۔ انہوں نے اسے نَعُوذُ بِاللہ مجذوب کی بڑ سمجھا اور خیر خواہی کے طور پر پھر نصیحت شروع کی مگر آپ نے فرمایا کہ تم جا کر یہ بات کہہ دو۔ گورنر یمن سے جا کر اُس کے نمائندوں نے جب یہ بات کہی تو اُس نے کہا کہ یہ شخص یا تو مجنون ہے یا نبی ہے ، بہر حال میں انتظار کروں گا ۔ چند روز کے بعد ایران کا ایک جہاز بندرگاہ پر آیا جس میں سے ایک شاہی پیغامبر اُترا اور بادشاہ کا خط گورنر کو دیا جس کی مہر دیکھتے ہی اُس نے کہا کہ مدینہ والے شخص کی بات سچی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اُس پر مہر ایک دوسرے بادشاہ کی تھی ۔ خط کو کھولا تو اُس میں لکھا تھا کہ اپنے باپ کی ظالمانہ حرکات کو دیکھ کر اور یہ دیکھ یہ دیکھ کر کہ وہ ملک کی حالت کو خراب کر رہا ہے ، فلاں رات ہم نے اُسے قتل کر دیا ہے اب ہم بادشاہ ہیں اس لئے ہماری اطاعت کرو۔ اور ہمارے باپ نے عرب کے ایک مدعی نبوت کے متعلق ایسا ظالمانہ حکم دیا تھا ، اُسے بھی ہم منسوخ کرتے ہیں کے کیا خدا نے بالکل اسی طرح یہاں نہیں کیا ؟ وہی لوگ جو اصحاب فیل کی طرح یہاں آئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ فرعونی تخت اُلٹنے آئے ہیں جاؤ اور ان سے کہہ دو کہ ہمارے خدا نے تمہارے تخت کو اُلٹ دیا ہے ۔ آج تمہارے اپنے بھائی گالیاں دیتے ہیں اور تم پر پھٹکاریں ڈال رہے ہیں ۔ انہی کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں ذلیل کروا