خطبات محمود (جلد 16) — Page 602
خطبات محمود ۶۰۲ سال ۱۹۳۵ء جس کی ایک ایک سر کے اندر ہزاروں محبتیں بھری ہوئی تھیں ایسی اعلی محبتیں کہ جو انسان کے دل کو عشق کے جذبات سے لبریز کر دیتی ہیں ، ہمارے لئے پھر بلند کی گئی ۔ اور اُسی شان کے ساتھ بلند کی گئی جس شان کے ساتھ وہ پہلے بلند ہوئی۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت ﷺ کے بروز اور آپ کے اعلیٰ درجہ کے شاگردوں میں سے ہیں اور آپ خود نہیں بولتے تھے بلکہ آپ کی وساطت سے خود رسول کریم ہے بولتے تھے ۔ پس ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہم نے اس آواز کی کیا قدر کی اور کیا اس آواز کے معاملہ میں ہمارے دلوں میں بھی وہی ادب اور احترام کے جذبات ہیں ۔ اور وہی قربانیوں کے ولولے اور جوش ہیں جس قسم کا ادب و احترام اور جس قسم کی قربانیاں یہ آواز چاہتی ہے؟ یا ہماری ساری جدو جہد یا ہم میں سے ایک طبقہ کی جدو جہد یہ ہے کہ ہم قربانیوں سے بچ جائیں ۔ دیکھو ! ہم سے پہلے دوقو میں گزری ہیں ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم تھی جس نے ایک نہایت ہی نازک موقع پر کہہ دیا کہ اِذْهَبُ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هَهُنَا فَاعِدُونَ " یعنی جاتو اور تیرا رب دشمنوں سے لڑائی کرے ہم تو یہیں بیٹھے ہیں مگر ان کی نسلوں نے اس غلطی کی اصلاح کی یہاں تک کہ انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ جن الفاظ میں خدا تعالیٰ کوئی بات کرنے کو کہے ، انہی الفاظ کی اتباع کرنی چاہئے اور تاویلوں سے کام نہیں لینا چاہئے ۔ پھر اپنی اس عادت کو انہوں نے یہاں تک ترقی دی کہ یہودی قوم اس بات کے لئے مشہور ہو گئی کہ وہ رسموں کی پابند ہے اور لفظوں کے پیچھے جاتی ہے۔ انہوں نے پھر کسی جگہ بھی تاویل کو جائز نہ سمجھا ۔ جن الفاظ میں تو رات میں کوئی بات کہی گئی تھی اُن کا لفظی طور پر اتباع کیا مگر اس کے بعد ایک اور قوم آئی جس نے یہ نہیں کہا کہ اِذْهَبُ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ بلکہ اگر چہ ان میں سے بعض نے کمزوری دکھائی مگر جب حضرت مسیح علیہ السلام کو دشمنوں نے گرفتار کرنا چاہا تو انہوں نے اپنی تلواریں نیام سے نکال لیں لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد ہی انہی میں سے ایسے لوگ پیدا ہو گئے جنہوں نے شریعت کے احکام کی بجا آوری کو اپنے لئے چٹی اور بوجھ سمجھا او جھ سمجھا اور کہا شریعت کیا ہے ۔ ایک لعنت ہے ۔ ۔ غرض انہوں نے شریعت کو لعنت قرار دے دیا اور اس طرح وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے محروم ہو گئے ۔ آخر یہ شریعت کو بوجھ سمجھنے کی بنیاد کیونکر قائم ہوئی ؟ کیا حضرت عیسی علیہ السلام کے صحابی یہ سمجھتے تھے کہ شریعت ایک چھٹی ہے؟ ان کی تو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں تعریف کی ہے اور ان کے تقویٰ اور ایثار کو سراہا ہے اور قرآن کریم