خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 545

خطبات محمود ۵۴۵ سال ۱۹۳۵ء زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے کہ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ یعنی تیرے رب کے لشکروں کو سوائے اُس کے اور کوئی نہیں جانتا ۔ تو اللہ تعالیٰ کی فوجوں میں کوئی کمی نہیں ۔ اگر کم فوجیں ہوتیں تب تو کہا جا سکتا تھا کہ قادیان کو خدا تعالیٰ نے کیوں مکرم بنا دیا۔ اگر تینوں مقدس مقامات پر نَعُوذُ بِاللهِ بیک وقت حملہ ہو گیا تو وہ فوجیں کہاں سے آئیں گی جو ان سب کی حفاظت کریں گی ۔ پس اگر خدا تعالیٰ کی فوجیں محدود ہوتیں تب تو احرار کو فکر ہو سکتا تھا کہ اگر مدینہ پر حملہ ہو گیا تو اس کی حفاظت کی کیا صورت ہوگی ، مکہ معظمہ پر حملہ ہو گیا تو اُس کی حفاظت کی کیا صورت ہو گی اور قادیان پر حملہ ہو گیا تو اُس کی حفاظت کی کیا صورت ہو گی لیکن جس کے ایک کُن کہنے سے زمین و آسمان بن جاتے اور ایک کن کہنے سے بنے بنائے کام تباہ ہو جاتے ہیں ، اُس کو اِس بخل اور کنجوسی کی کیا ضرورت ہے ۔ خدا تعالیٰ تین کیا تین ہزار بلکہ تین لاکھ شہر بھی اگر مکرم بنادے تو ان کی حفاظت کے لئے کیا اُس نے کسی سے کچھ مانگنے جانا ہے کہ مخالفین کو اس کا فکر لگا ہوا ہے ! اگر تو مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ نہ لی ہوئی ہوتی اور اس کی حفاظت مولوی عطا اللہ شاہ صاحب کے سپر د ہوتی ، تب وہ کہہ سکتے تھے کہ ہم کہاں کہاں کی حفاظت کریں لیکن جب کہ خدا تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کی حفاظت ہمارے سپردنہیں کی بلکہ اپنے ذمہ لی ہے تو ان مولویوں کو اس قسم کے الفاظ اپنی زبان سے نکالنے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ ان مولویوں کا تو خدا پر اتنا بھی ایمان نہیں جتنا رسول کریم ﷺ کے دادا حضرت عبد المطلب کا تھا جو اسلام سے پہلے ہوئے ہیں۔ اگر حضرت عبد المطلب جتنا ایمان بھی ان کے دلوں میں ہوتا تو یہ سمجھ لیتے کہ مکہ معظمہ کی حفاظت خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہوئی ہے ، انسان کے سپرد نہیں کی ۔ تاریخوں سے ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ کی پیدائش سے کچھ مدت پہلے ایسے سینیا کی حکومت کی طرف سے یمن کے علاقہ پر ابرہہ نامی ایک گورنر مقرر تھا اُس نے چاہا کہ عربوں کو عیسائیت کی طرف کھینچنے کے لئے ان کی توجہ بیت اللہ کی طرف سے ہٹا دی جائے ۔ اس غرض کے لئے اس نے اپنی طرف سے بعض کوششیں کیں مگر جب ناکام ہوا تو اُسے خیال پیدا ہوا کہ اگر میں کعبہ کو گر ادوں تو شاید اس طرح لوگوں کی توجہ اس سے پھر جائے ۔ اس خیال کے آنے پر وہ اپنی فوجیں لے کر بیت اللہ کی طرف چل پڑا۔ اُس وقت حبشہ کی طاقت بہت بڑھی ہوئی تھی ۔ موجودہ ایسے سینیا سے اس کا ملک بہت وسیع تھا اور حبشہ کی دولت بھی اُس وقت بہت زیادہ تھی ۔ کیونکہ یمن بہترین سرسبز مقامات میں سے ہے