خطبات محمود (جلد 16) — Page 519
خطبات محمود ۵۱۹ (۳۲) سال ۱۹۳۵ء اب زیادہ سے زیادہ قربانیوں کے لئے تیار ہو جاؤ فرموده ۲۳ راگست ۱۹۳۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں نے گزشتہ سے تہ سے پیوستہ جمعہ میں یہ ذکر کیا تھا کہ جماعت کو دو طریق سے فتح حاصل ہو سکتی ہے ۔ ہے۔ ایک طریق تو تدبیر ہے جہاں تک اس کا تقاضا شریعت نے کیا ہے اور دوسرے تقدیر جہاں تک کہ اس کے حصول کے لئے شریعت نے ہمیں ذرائع مہیا کر کے دیئے ہیں ۔ تدبیر کے متعلق میں ایک حد تک اپنے خیالات کا پچھلے دو جمعوں میں اظہار کر چکا ہوں لیکن تقدیر کا حصہ ایک حد تک مزید تشریح کا محتاج ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ دنیا میں دوقسم کے تغیرات پیدا کیا کرتا ہے ایک طبعی اور ایک شرعی ۔ جتنے تغیرات دنیا میں نظر آئیں گے وہ انہی دو قسموں میں سے ہو نگے ۔ طبعی تغیرات تو وہ ہوں گے جن کے موجب اور اسباب ایسے افعال میں یا ایسے تغیرات میں ملتے ہو نگے جن کا طبعی نتیجہ اسی قسم کا ظاہر ہونا ہمیشہ سے مقدر ہے مثلاً کوئی شخص علم پڑھتا ہے اس کا طبعی نتیجہ یہ ہے کہ وہ علم حاصل کر لیتا ہے، ایک قوم تجارت میں ترقی کرنے کی جدوجہد کرتی ہے اور اس کے نتیجہ میں بہت بڑی تا جر قوم بن جاتی ہے، یا کوئی قوم زراعت میں کوشش کرتی ہے اور اس میں ترقی کر جاتی ہے ، یا کوئی قوم مختلف پیشوں کے حصول کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور پیشہ ور بن جاتی ہے ، یا جو اقوام کوشش نہیں کرتیں وہ گر جاتی ہیں جو قو میں دنیا میں تمدن کو پھیلانے کی کوشش کرتی ہیں وہ حاکم و بادشاہ بن جاتی ہیں اور جو نہیں کرتیں وہ اس کے مقابل میں ذلیل اور رسوا ہو جاتی ہیں ۔ یہ ایسے طبعی تغیر ہیں جو ہر جگہ اور ہر گھر میں نظر آتے