خطبات محمود (جلد 16) — Page 45
خطبات محمود لده سال ۱۹۳۵ء ہے ، آگے بڑھیں گے۔ اور چندوں کی ادائیگی کے علاوہ اپنی جانوں کی قربانی کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کریں گے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ابھی ہماری جماعت کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے سوتے ہوئے کسی شخص کو جگا دیا جائے تو وہ گھبرا کر یہ کہتا ہوا اُٹھے کہ کیا ہو گیا کیا ہو گیا۔ مگر میں کہتا ہوں اب آنکھیں کھولو اور بیدار ہو کہ تمہارے گھر کو آگ لگنے والی ہے ۔ پریشانی کی حالت دور کرو اور سمجھنے کی کوشش کرو ان حالات کو جو آج کل تمہارے خلاف پیدا ہو رہے ہیں ۔ تب اور صرف تب تم میں ہمت پیدا ہو گی ۔ تمہیں صحیح قربانی کی بھی توفیق ملے گی اور تبھی اس کے صحیح نتائج بھی تمہارے لئے پیدا ہوں گے ۔ الفضل ۲۴ جنوری ۱۹۳۵ء ) ا بخاری كتاب الرقاق باب التواضع اسد الغابة جلد ۲ صفحہ ۲۶۶ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۵ھ ، بخارى كتاب الجنائز باب مَا يُنْهَى مِنَ النَّوْحِ وَالْبُكَاءِ (الخ)