خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 486

خطبات محمود ۴۸۶ سال ۱۹۳۵ء ایسے غیبی علوم دیئے جائیں گے کہ جن باتوں کو تم آج نہیں سمجھ سکتے ، کل تم حیران ہو گے کہ یہ باتیں کسی کی نظر سے مخفی رہ کس طرح سکتی ہیں ۔ گزشتہ خطبہ کے سلسلہ میں ہی میں آج بعض ضروری باتیں بیان کرتا ہوں ۔ - لکھواد پہلی چیز تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو قانونی لحاظ سے نیشنل لیگ میں شامل ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں وہ اپنے ، اس کے بعد ا بعد اپنے اپنے ہاں سیاسی انجمنیں بنائیں اور مرکزی جماعت سے ان کا الحاق کریں اور اس کے بعد وہ باتیں جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں ان پر عمل کریں ۔ میرے خطبات کو اگر غور سے پڑھیں تو ان میں سے بہت سی باتیں وہ نکال سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ گو میں نے کہا ہے کہ اگر ایسا موقع آئے جب لیگ کو میری ہدایت کی ضرورت ہو تو میں اس سے دریغ نہ کروں گا لیکن پھر بھی انہیں چاہئے کہ خود اپنے نفسوں پر زور دے کر ایسی باتیں معلوم کریں ۔ بعض موٹی موٹی باتیں میں بیان بھی کر دیتا ہوں ۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ کچھ لیڈر ہوتے ہیں اور باقی متبع ۔ اور زندہ قومیں جانتی ہیں کہ لیڈروں کی قیمت کیا ہوتی ہے ۔ جب کسی قوم کے متعلق یہ معلوم کرنا چا ہو کہ وہ زندہ ہے یا مردہ تو یہ دیکھ لو کہ وہ اپنے لیڈروں کی عزت کرتی ہے یا نہیں ۔ جو شخص اپنے سر کو نہیں بچا تا وہ زندہ نہیں رہ سکتا ، اگر سر سلامت ہو تو ٹانگیں خواہ ٹوٹی ہوئی ہوں ، پیٹ میں گولی لگی ہوئی ہو ، پھر بھی انسان کچھ کام کر سکتا ہے مگر جب سر نہ ہو تو باقی سب کچھ سلامت ہونے کے باوجود انسان کچھ نہیں کر سکتا ۔ جاہل لوگ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے لیڈروں کو پہلے قربان کریں وہ اس کا نام نیک نمونہ رکھتے ہیں مگر یہ بے وقوفی کی علامت ہے ۔ اگر کوئی بزدل ہے تو وہ لیڈری کا مستحق ہی نہیں لیکن جب کسی کو لیڈر بنا لیا جائے تو پھر اسے پہلے قربان کرنے کی کوشش کرنا حماقت ہے ۔ پس تمہاری پہلی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ ایسے لوگوں کو لیڈر بناؤ جو مخلص ، قربانی کرنے والے اور فرض کی خاطر جان دینے سے ڈرنے والے نہ ہوں ، لیڈری کے لئے ایسے ہی لوگ تلاش کرو۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنَتِ إِلَى اهْلِهَا ۔ جو اہل ہوں اُن کو لیڈر بناؤ اور جب بنا لو تو پھر اس بات کو کبھی فراموش نہ کرو کہ لیڈ ر بمنزلہ دماغ کے ہے اور دوسرے لوگ ہاتھ پاؤں ہیں اس لئے اُس کی بہادری کا امتحان نہ کرو۔ رسول کریم سے زیادہ بہادر کون ہو سکتا تھا ، جنگ حنین کے موقع پر غفلت کی وجہ سے جب اسلامی لشکر صلى الله