خطبات محمود (جلد 16) — Page 448
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء بُرے ہوتے ہیں ہماری پولیس کی براءت کی ضرورت نہیں ۔ پس جو افسر اصلاح کو مقدم سمجھتے ہیں وہ ان باتوں پر بر انہیں مناتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ غدار ہیں اور ان کی اصلاح ضروری ہے ۔ قوم کی طاقت اس میں ہوتی ہے کہ غداروں کی اصلاح کی جائے جو قوم غداروں کو چھپاتی ہے وہ اپنی محبت دلوں سے نکال دیتی ہے ۔ غداروں کی اصلاح سے پر سٹیج PRESTIGE) کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے مگر بعض افسروں کو پھر بھی یہ بات بری لگتی ہے۔ اس کے برخلاف میرا یہ کہنا کہ انگریز قوم اچھی ہے ہماری جماعت کے بعض افراد کو اب بُرا لگتا ہے اور ملک کی بعض دوسری قوموں کو بھی مگر مجھے اس کی پرواہ نہیں میرے سامنے ہمیشہ نجاشی کا قول رہتا ہے جو حبشہ کا بادشاہ تھا وہی حبشہ جس پر اٹلی حملہ کر رہا ہے ۔ جب کفار کے مظالم سے تنگ آ کر بعض صحابہ اس کے ملک میں ہجرت کر گئے تو کفار نے دو آدمی بہت سے تحائف وغیرہ دے کر اس کے پاس بھیجے اور کہلا بھیجا کہ آپ سے ہماری ہمیشہ صلح رہی ہے ان لوگوں کو واپس کر دیں ۔ جب وہ لوگ درباریوں کو رضا مند کرنے کے بعد پیش ہوئے تو اس نے صحابہ کو بلایا اور ان سے حالات دریافت کئے اور ان کے حالات سن کر انہیں واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر پھر مکہ کے سفیروں نے امراء سے مل کر اس پر زور ڈالا اور اس دفعہ اُسے یہ کہہ کر جوش دلانا چاہا کہ یہ لوگ مسیح کو گالیاں دیتے ہیں جس طرح آج ہمارے متعلق کہا جاتا ہے کہ ہم نَعُوذُ بِاللهِ حضرت مسیح علیہ السلام کی ہتک کرتے ہیں اس پر اس نے صحابہ کو پھر بلوایا اور پوچھا کہ حضرت مسیح کے متعلق تم لوگوں کا کیا خیال ہے ؟ انہوں نے قرآن کی آیات پڑھ کر سنائیں ۔ اس پر نجاشی نے ایک تنکا اُٹھایا اور کہا خدا کی قسم ! میں مسیح کو اس درجہ سے اس تنکا کے برابر بھی کم و بیش نہیں سمجھتا ۔ میرا ایمان بالکل یہی ہے ۔ کے ایک عیسائی بادشاہ کے منہ سے یہ بات سن کر درباری جوش میں آ گئے اور کہا کہ تم کافر ہو گئے ہو جو خدا کے بیٹے کو انسان کہتے ہوا اور معمولی نبی تمہیں اس کے انجام کا علم ہے؟ تب اس نے کہا کہ تم کو معلوم ہے میں چھوٹا بچہ تھا کہ میرا باپ فوت ہو گیا اور میرے گارڈین نے چاہا کہ مجھے تخت سے محروم کر دے اور تم سب اس کے ساتھ سازش میں شریک ہو گئے کوئی ایک بھی میرے ساتھ نہ تھا اُس وقت اللہ تعالیٰ نے میرا ساتھ دیا اور جس خدا نے مجھے یہ تاج و تخت دلوایا کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کے مقابلہ میں میں تمہاری کوئی پروا کروں گا ؟ جاؤ جو تمہارا دل چاہے کروں میرا بھی سچائی کے بارہ میں یہی حال ہے ۔ اس کے مقابل میں مجھے نہ حکومت کی پروا ہے نہ رعایا کی اور نہ اپنی جماعت کی ، میری