خطبات محمود (جلد 16) — Page 409
خطبات محمود لد ۔۔ سال ۱۹۳۵ء جو چال احرار ہمارے خلاف چلے تھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ اُلٹ کر انہی پر پڑی اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے ان کے شر سے محفوظ رکھا۔ تیسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ میں شعائر اللہ کی تعظیم سے نا واقف نہیں ہوں ۔ میں جب رسول کریم ﷺ کے زمانہ کی تاریخ پڑھتا ہوں اور آپ کی وفات کے بعد ظہور میں آنے والے افسوسناک واقعات کا مطالعہ کرتا ہوں ، جب صحابہ میں اختلاف ہوا اور باہم لڑائیاں ہوئیں اور اس واقعہ پر پہنچتا ہوں جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی ایک جنگ میں شریک ہوئیں تو باوجود اس کے کہ میرا عقیدہ ہے کہ اس معاملہ میں حضرت علی حق پر تھے اور یہ بھی کہ آپ کے مخالف غلط فہمی کا شکار تھے ۔ حضرت علیؓ اس وقت کے حالات کے لحاظ سے بہت حد تک صحیح اور حق بجانب تھے اور اگر اس وقت ان سے کوئی غلطی ہوئی بھی ہو تو وہ اتنی ادنی ہے کہ ان حالات کے لحاظ سے اسے نظر انداز کر دینا چاہئے مگر باوجود اس کے جب میں یہ پڑھتا ہوں کہ حضرت علیؓ کے مقابل پر جو لشکر تھا اس کے پاؤں کو جمائے رکھنے والا صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا وجود تھا اور وہ با وجود کمزور ہونے کے اس لئے نہ بھاگتا تھا کہ حضرت عائشہ اس کے ساتھ نہ بھاگ سکیں گی اور اس طرح ممکن ہے آپ کو کوئی گزند پہنچ جائے ۔ حضرت علیؓ کے لشکر ۔ علیؓ کے لشکر کے سردار بڑھ بڑھ کر حملے کرتے تھے مگر تھے مگر سمجھتے تھے کہ جب تک حضرت عائشہ ہودج میں بیٹھی ہیں بالمقابل لشکر کے سپاہی ایک ایک کر کے جان دے دیں گے مگر بھاگیں گے نہیں اس وجہ سے ان میں سے بعض نے یہ فیصلہ کیا کہ خواہ نتیجہ کچھ ہو حضرت عائشہ کے ہودج کو نیچے گرا دیا جائے جب وہ گر جائے گا تو مخالف لشکر خود بخود بھاگ جائے گا۔ اس فیصلہ کے مطابق جب حملہ شروع ہوا تو حضرت عائشہ کے شکر کے سپاہی جن میں بڑے بڑے بزرگ صح رے بزرگ صحابی تھے ، جو اسلام میں بڑی بڑی وجاہتیں رکھتے تھے ایک ایک کر آگے آتے تھے اور جانیں دیتے تھے ۔ اس وقت کا ایک واقعہ ہے کہ حضرت زبیر جو عشرہ مبشرہ میں ۔ سے تھے ان کے ایک لڑکے عبد اللہ بن زبیر جن کو بعض لوگ پہلی صدی کا مجدد بھی کہتے ہیں حضرت علیؓ کے لشکر کے ایک بڑے سردار مالک کے ساتھ جو حملہ میں بہت زیادہ حصہ لے رہا تھا جا کر چمٹ گئے ۔ ان کا خیال تھا کہ اگر مالک کو مار دیا جائے تو حضرت علی کا لشکر کمزور ہو جائے گا اور حضرت عائشہ کو بچایا جا سکے گا اس لئے وہ اس سے چمٹ گئے مگر مالک بڑا مضبوط آدمی تھا اور یہ نحیف الجثہ تھے اور صرف ایمانی طاقت کے ساتھ اس سے چمٹ گئے تھے ۔ آخر کشمکش میں دونوں