خطبات محمود (جلد 16) — Page 391
خطبات محمود ۳۹۱ سال ۱۹۳۵ء گزرا تھا کہ کوئٹہ میں ایک ہیبت ناک زلزلہ آیا اتنا ہیبت ناک کہ اس زلزلہ کے متعلق وزیر ہند نے بھی کہا ہے۔ اتنا بھاری زلزلہ برطانوی سلطنت کے کسی ملک میں آج تک کبھی نہیں آیا۔ یہ سب سے بڑی مصیبت نازل ہوئی ہے۔“ کتنا عظیم الشان صدمہ ہے جو لوگوں کو پہنچا۔ زلزلے کے جھٹکے آتے ہیں اور ایک دومنٹ میں ہی ملک کا ملک فنا ہو جاتا ہے اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ وہ گورنمنٹ اتنی وسیع منظم اور با اثر گورنمنٹ جس کا یہ دعویٰ ہے کہ ہماری مملکت پر پر سورج سورج : غروب نہیں ہوتا ، وہ با با وجود وجود تا تین لاکھ فوج رکھنے ر کے ، با وجود ایک ارب سے زائد بجٹ رکھنے کے باوجود اتنی طاقت اور قوت اور شوکت کے اس کی آنکھوں کے سامنے مردے چھتوں کے نیچے سڑ جاتے ہیں اور وہ اپناز ورخرچ کرنے کے باوجود سب مردوں کو دفن نہیں کر سکتی اور معذرتوں پر معذرتیں کرتی چلی جاتی ہے کہ ہم مر دے نکالنے سے بے بس ہیں ۔ آج بھی کوئٹہ کی وادیوں میں مُردے سڑ رہے ہیں ، آج بھی وہ برطانوی حکومت جس کی مملکت پر سورج غروب نہیں ہوتا ، جس کے جہاز دنیا کے سارے سمندروں میں پھیلے ہوئے ہیں بے بس ہے اور بے بسی کا اقرار کرتی ہے اور سڑتی ہوئی لاشوں کو ملبوں کے نیچے سے نکالنے کی قدرت نہیں رکھتی ۔ کیا خدا تعالیٰ کا یہ قہری نشان اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہمارا خدا جب مارنے پر آتا ہے تو کوئی حکومت جلا نہیں سکتی اور جب وہ جلانے پر آ جاتا ہے تو کوئی حکومت مٹا نہیں سکتی ۔ کیا حقیر سی خدمت ہے جو مرنے کے بعد انسان کی کی جاتی ہے کہ لاش کو اُٹھایا اور اسے مٹی میں دبا دیا۔ بلی بھی جب پاخانہ پھرتی ہے تو اس پر مٹی ڈال دیتی ہے مگر خدا تعالیٰ کا جب غضب ایک خطہ زمین پر اترتا ہے تو ۳۳ کروڑ اہلِ وطن اور وہ حکومت جو ساری دنیا پر پھیلی ہوئی ہے دونوں ہی بے بس اور لا چار ہو جاتے ہیں اور وہ لاشوں کو صحیح طور پر دفن کرنے کی بھی توفیق نہیں پاسکتے ۔ کیا وہ خدا جو کوئٹہ پر زلزلہ لایا اور جگہوں پر زلزلے نہیں لا سکتا اور کیا وہ خدا جس نے کوئٹہ اور قلات کی عمارتوں اور سر بفلک محلات کو آنِ واحد میں مسمار کر کے مٹی کا ڈھیر بنا دیا ، وہ اور لوگوں کے محلات اور عمارتوں کو مسمار نہیں کر سکتا ۔ یہ تو خدا تعالیٰ نے لوگوں کو اپنی قدرت کی ایک مثال دی ہے جیسے دُکاندار مٹھائی میں سے بعض دفعہ تھوڑی سی چیز گاہک کو چکھانے کے لئے دے دیتے ہیں جسے