خطبات محمود (جلد 16) — Page 363
خطبات محمود ۳۶۳ سال ۱۹۳۵ء یہ وہ شخص ہے جس کی اُمت میں سے ہونے کا تم دعوی کرتے ہو ، یہ وہ شخص ہے جس کے لائے ہوئے ایمان کو تازہ کرنے کے لئے تم دنیا میں کھڑے ہوئے ہو اور یہ وہ نمونہ ہے جسے پھر دنیا میں قائم کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا ۔ اگر تم اپنے وجود سے سچائی کا نمونہ لوگوں کو دکھا دو گے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت تمہیں کچل نہیں سکتی ۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اب تو حاکموں نے بھی جماعت احمد یہ کو جھوٹا کہہ دیا مگر کیا پہلے حاکموں نے حضرت مسیح ناصری کو جھوٹا نہیں کہا تھا ؟ اور کیا لوگوں نے رسول کریم ﷺ کی تکذیب نہیں کی تھی ؟ پس یہ مخالفت کوئی چیز نہیں محض ایک عارضی چیز ہے ورنہ اگر احراری میری ڈاک میں سے اپنے ہم مذہب لوگوں کی ، ہندو میری ڈاک میں سے اپنے ہم مذہب ہندوؤں کی اور سکھ میری ڈاک میں سے اپنے ہم مذہب سکھوں کی وہ چٹھیاں پڑھیں جو مجھے آتی ہیں تو انہیں معلوم ہو کہ ان میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ فلاں احمدی سے ہمارا جھگڑا ہے آپ اس کا ا فیصلہ کرا دیں ہم عدالت میں جانا نہیں چاہتے ۔ اگر ہم جھوٹے اور فسادی ہیں تو احراری ، ہندو اور سکھ ہمارے پاس اپنے جھگڑوں کو فیصلہ کرانے کے لئے کیوں لاتے ہیں کیا یہ صاف طور پر اس امر کا ثبوت نہیں کہ ان کے دل اقرار کرتے ہیں کہ ہم سچے ہیں صرف مخالفت اور عناد پھیلانے کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ ہم جھوٹے ہیں ورنہ ان کے دل مانتے ہیں کہ ہم جھوٹ نہیں کہتے بلکہ جو کچھ کہتے ہیں صحیح اور کہتے ہیں۔ مگر میں کہتا ہوں جس مقام صدق پر لوگ تمہیں سمجھتے ہیں اس سے بھی زیادہ ترقی کرنے کی کوشش کرو ۔ تم بھول جاؤ اس بات کو کہ احراری تمہیں کیا کہتے ہیں ، تم بھول جاؤ اس بات کو کہ گورنمنٹ کے بعض افسر تمہارے متعلق کیا خیال رکھتے ہیں تم آج سے یہ جہاد شروع کر دو کہ ہمیشہ سچ بولوا اور جو کچھ واقعہ ہوا سے بیان کر دو اور پیشتر اس کے کہ میں وہ سکیم بتاؤں جو سلسلہ کی عظمت اور اس کے وقار کو قائم رکھنے کے لئے بشرط ضرورت بیان کی جائے گی ہر شخص اپنی زندگی پر غور کرے، اپنی بیوی اور بچوں کی زندگی پر غور کرے، اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی زندگیوں پر غور کرے، اپنے دوستوں اور ہمسایوں کی زندگی پر غور کرے اور اگر اسے کہیں بھی جھوٹ نظر آئے خواہ اپنے اندر یا اپنے کسی رشتہ دار دوست اور ہمسایہ کے اندر تو اس کا فرض ہے کہ اس گند کو چھیلے اور اُسے دُور کرنے کی کوشش کرے تا کہ جس وقت اس سے قربانی کا مطالبہ کیا جائے وہ خدا تعالیٰ کے سپاہیوں میں اپنا نام لکھا سکے کیونکہ جو شخص جھوٹ بولتا ہے وہ خدا کا سپاہی نہیں بن سکتا۔ تم میں سے بہت ہیں جو مجھے کہتے درست