خطبات محمود (جلد 16) — Page 355
خطبات محمود ۳۵۵ سال ۱۹۳۵ء ہے جو ہم اختیار کئے ہوئے ہیں ہمارا اصل یہ ہے کہ ہم جو کچھ کہیں گے سچ کہیں گے اگر ہماری غلطی ہو گی تو ہم اس غلطی کا اقرار کر لیں گے اور اگر غلطی نہیں ہوگی تو انکار کر دیں گے۔ اسی طرح اگر ہمارے کسی آدمی کی غلطی ہو گی تو ہم اسے مان لیں گے نہ ہو گی تو انکار کر دیں گے لیکن دنیا کا عام خیال یہ ہے کہ سیچ کے ساتھ فتح نہیں ہو سکتی مگر اس قلیل جماعت کا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام رسانی کا کام کرتی چلی آئی ہے یہ عقیدہ ہے کہ اصل فتح سچ کے ساتھ ہوتی ہے۔ جب انسان مشکلات سے گھر جاتا ہے ، جب خطرات میں چاروں طرف سے مبتلاء ہو جاتا ہے جب انسان اپنی آزادی کے لئے کوئی چارہ کا ر نہیں پاتا اور وہ دیکھتا ہے کہ دشمن جھوٹ بول بول کر اس کے خلاف فتنہ و فساد کی آگ بھڑ کا تا چلا جا رہا ہے تو اس کا قدم لڑکھڑا جاتا اور وہ یہ کہنے لگ جاتا ہے کہ میں بھی کیوں جھوٹ نہ بولوں اور کیوں جھوٹ کا جھوٹ سے مقابلہ نہ کروں لیکن وہ جان جو اپنی آزادی اور بچاؤ کے لئے جھوٹ بولتی ہے اس سے زیادہ ذلیل اور کوئی جان نہیں ہو سکتی اور اگر اس نے اپنی حفاظت کے لئے سچ کو قربان کر دیا تو اس کے بچانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہتی ۔ ان دو چیزوں میں سے ہم نے دیکھنا ہے کہ ہم کون سی چیز اختیار کریں۔ میں جب یہ کہتا ہوں کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ ہم کون سی چیز اختیار کریں تو میں اُن کمزوروں اور منافقوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کرتا ہوں جنہوں نے ابھی تک سچائی کی قدر و قیمت کو نہیں پہچانا ورنہ ہم نے تو دیکھا ہوا ہے کہ سچائی کے بغیر کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی ۔ پس میں جب ” ہم“ کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو ان منافقوں کے لئے جن کے لئے یہ بات ابھی کھلی نہیں ورنہ ان کو مستثنیٰ کرتے ہوئے تو ہم پر ا یہ بات تو ہمیشہ سے کھلی ہوئی ہے کہ سچائی سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں اور یہ کہ سچ کی حفاظت کے لئے جان کا ضائع ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں ۔ اگر بیچ کسی انسان کے ہاتھ سے چلا جاتا ہے اور وہ جھوٹ بول کر اپنی جان بچا لیتا ہے تو اس جان کی کوئی قیمت نہیں ۔ مؤمن اسی زندگی کو حقیقی زندگی اور اسی فتح کو حقیقی فتح سمجھتا ہے جس کے ساتھ سچ کو وہ بچا لیتا ہے ۔ پس اس وقت دشمن ہمارے خلاف جو سامان تیار کر رہا ہے، اسے مد نظر رکھتے ہوئے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ مخالفت کا سلسلہ کب تک جاری رہے ممکن ہے دو سال، تین سال ، چار سال یا پانچ سال رہے اور ممکن ہے دس بیس برس رہے ۔ پھر نا معلوم وہ کس کس طریق سے مخالفت کرے گا اور کس کس رنگ میں ہماری جانوں اور عزتوں پر حملہ کرے گا اور اگر حکام کا ایک حصہ بھی بدستور مخالف رہا تو ایسی