خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 307

خطبات محمود ۳۰۷ سال ۱۹۳۵ء - بیسیوں فونوگراف اور گراموفون مسلمانوں کے گھروں میں روز بجتے ہیں اور کسی کو کراچی کا حادثہ یاد نہیں آتا لیکن سلور جوبلی جو مختلف ممالک کے اتحاد کی نمائش ہے، اس کیلئے کراچی کا ماتم ان کے آگے روک ہے گویا یہ لوگ عقل سے بالکل ہاتھ دھو بیٹھے ہیں نہ انہیں ملک کے اتحاد کا خیال ہے نہ قومی ترقی کا۔ حکومت سے اختلاف کرنے کا ہمیں بھی موقع پیش آیا مگر ہم سمجھتے ہیں کہ برطانوی حکومت اور چیز ہے ملک معظم کی سلور جوبلی اور چیز ۔ جس اصل کی پیروی احراری کر رہے ہیں اگر اسے صحیح سمجھ لیا جائے تو پھر کسی مسلمان کے چور ثابت ہو جانے کی وجہ سے کہنا پڑے گا کہ سارے مسلمان خراب ہو گئے ۔ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رَسُولَ اللهِ! فلاں عورت خوبصورت تھی میں نے اُسے دیکھا اور ضبط نہ کر سکا ، اور اُسے چوم لیا ۔ آپ نے اسے علاج بتا دیا اور وہ چلا چلا گیا اب کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ سارے مسلمان ہی ایسے تھے ۔ یہ مانی ہوئی بات ہے کہ ہندو مسلمانوں کے دشمن ہیں مگر کیا سارے ہند وایسے ہیں؟ ہرگز نہیں ۔ ہر گز نہیں ۔ ہندوؤں میں ہزاروں لا لاکھوں انسان ایسے ہیں جو اپنے مسلمان ہمسایہ کے لئے اپنی جانیں قربان کر سکتے ہیں ۔ حکومت کے ساتھ احراریوں کی بھی لڑائی ہوئی اور ہماری بھی لیکن ہم کہتے ہیں کہ چند افسروں نے شرارت کی اور ہمارا غصہ انہی پر ہے وہ اپنی کسی خوشی کی تقریب پر اگر بلائیں تو ممکن ہے ہم انکار کر دیں لیکن یہاں تو حکومت کا ہی سوال نہیں بلکہ یہ خوشی تو بادشاہ کی ذات سے تعلق رکھتی ہے حکومت اور چیز ہے اور بادشاہت اور چیز دونوں کو ملا نا حد درجہ کی حماقت ہے ۔ تم انگریزوں کو کتنا برا کہہ لو مگر یہ حقیقت ہے کہ کئی آزاد ممالک ان کے ذریعہ اکٹھے ہو رہے ہیں اور ساری دنیا یا تو اسی ماڈل پر متحد ہو سکتی ہے یا اس میں شامل ہو کر متحد ہو سکتی ہے ۔ میں جانتا ہوں کہ یہ باتیں احراریوں کو بُری لگیں گی اور وہ کہیں گے کہ یہ انگریزوں کی حکومت کو ساری دنیا پر دیکھنا چاہتے ہیں مگر جس بات کو ہم اچھا سمجھتے ہیں اسے ان کے کہنے سے چھوڑ نہیں سکتے ۔ ہم کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں نبی آ سکتا ہے مگر وہ اس پر بُرا مناتے ہیں تو کیا ہم اسے چھوڑ دیں ؟ اگر یہ با ؟ اگر یہ باتیں انہیں بُری لگتی ہیں تو میں یہی کہوں گا کہ مُؤْتُوا بِغَيْظِكُمْ جاؤ اور جا کر غصہ میں جلتے رہو ہم تو محمد ﷺ کی عزت قائم کرنا چاہتے ہیں تمہیں اگر یہ بات بری لگے تو ہزار دفعہ لگے ۔ اسی طرح ہم کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں انہیں یہ بات بھی بُری لگتی ہے مگر ہم یہی کہیں گے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی سے اسلام کی موت ہے مگر ہم نے اسلام کو زندہ