خطبات محمود (جلد 16) — Page 267
خطبات محمود ۲۶۷ سال ۱۹۳۵ء فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کی ۔ خدا تعالیٰ کے قانون میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ جب تک کسی قوم کا قدم ترقی پر ہوتا ہے ، اس وقت تک ہر آنے والی رواس کی پہلی رو سے زیادہ تیز ہوتی ہے ۔ پہاڑوں پر جاتے ہوئے ہی دیکھ لو پہلے معمولی سی اونچائی دکھائی دیتی ہے ، پھر ٹیلے نظر آتے ہیں یوں جیسے کہ پزاوے سے ہوتے ہیں پھر اور اونچی جگہ آتی ہے پھر اور اونچی جگہ آتی ہے یہاں تک کہ نہایت ہی بلند و بالا پہاڑیوں تک انسان پہنچ جاتا ہے ۔ اسی طرح آندھی آتی ہے تو پہلے ایک معمولی جھونکا آتا ہے پھر اس سے بڑا جھونکا آتا ہے اور پھر اس سے بڑا جھونکا آتا ہے یہاں تک کہ اتنے زور کی آندھی آتی ہے کہ وہ چھتوں کو اڑا کر لے جاتی ہے۔ یہی گرمی کا حال ہے پہلے تھوڑی گرمی ہوتی ہے پھر زیادہ گرمی ہو جاتی ہے اسی طرح سردی ایک دن کم ہوتی ہے ، دوسرے دن اس سے بڑھ کر اور پھر اس سے زیادہ ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قانون کے ماتحت اسلام کی پہلی رو چلی تو اسلام کی پہلی رو چلی تو مسلمانوں نے اس حد تک اس رو کو پہنچا دیا کہ مساوات دنیا میں قائم کر دی ، اب دوسرا جھونکا احمدیوں کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے چلایا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ جو امتیازات کی بنیادیں ابھی باقی ہیں ان کو دنیا سے مٹا دیں ۔ پس ہمارے خیالات ہمیشہ اس نقطہ نگاہ کے ماتحت رہنے چاہئیں کہ ہم احمدی ہیں یہ نہ ہو کہ ہم سرحدی ہیں اور وہ بنگالی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ فطرتی بات ہوتی تو ہمارے اندر کیوں نہ ہوتی ۔ افغانستان کے آدمی یہاں آتے ہیں ، مدراس کے آدمی یہاں آتے ہیں ، بنگالی یہاں آتے ہیں مگر کبھی ایک سیکنڈ کے لئے مجھے یہ خیال نہیں آیا کہ یہ اور ہیں اور ہم اور ، اور ہمیں چونکہ یہ بتانا پڑتا ہے کہ فلاں شخص کہاں سے آیا ، اس لئے ہم کہتے ہیں کہ فلاں سرحدی ہے اور فلاں بنگالی ۔ ورنہ ہمیں نہ تو بنگالیوں میں بنگالیت نظر آتی ہے اور نہ پنجابیوں میں پنجا بیت بلکہ ہمیں تو ہر چہرہ میں احمدیت نظر آتی ہے لیکن چونکہ انسانی عادات میں فرق ہوتا ہے اس لئے مناسب یہی ہوا کرتا ہے اور کامیابی اسی میں ہوتی ہے کہ جس صوبہ کا کوئی آدمی ہو اسے اس صوبہ میں ہی کام کرنے کا موقع دیا جائے اس لئے نہیں کہ وہ سرحدی ہے اور اسے سرحد میں کام کرنے کا موقع دینا چاہئے ، اس لئے نہیں کہ وہ بنگالی ہے اور اسے بنگال میں کام کرنے کا موقع دینا چاہئے بلکہ اس لئے کہ وہ کام کو اپنے صوبہ میں ہم سے زیادہ بہتر کر سکتا ہے اور چونکہ وہ اپنے صوبہ کی زبان اور لوگوں کی عادات واطوار کا بہر حال زیادہ واقف ہوگا اس