خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 246

خطبات محمود ۲۴۶ سال ۱۹۳۵ء کے اصر )Prestige( پرسیج ہے کہ جہاں جہاں پہنچے گی دنیا اسے ٹیررازم سے تعبیر کرنے پر مجبور ہو گی ۔ بچے کا دل ہی کتنا ہوتا ہے اسے ماں باپ ہی ذرا جھڑک دیں تو اس کا پیشاب نکل جاتا ہے ایسے چھوٹے بچے جن کا ماں باپ کی جھڑک سے پیشاب خطا ہو جاتا ہے اُن پر ۱۲ پولیس والوں کی گار دلگا دینا کتنا بڑا ظلم ہے ۔ ذرا غور کرو ان بیچاروں کا کیا حال ہوا ہو گا ۔ چھوڑ دو حکومت کے سوال کو چھوڑ دو قانون کے سوال کو، خالی انسانیت کو لے لو تو ماننا پڑے گا کہ یہ بہت بڑی سختی ہے مگر میں برطانوی انصاف سے مایوس نہیں ہوں ۔ اگر چہ میرا تجربہ یہی ہے کہ سوائے اس نوٹس والے معاملہ کے جو مجھے دیا گیا حکومت نے اور کسی واقعہ میں ہماری دلجوئی نہیں کی مگر پھر بھی میں مایوس نہیں ۔ اب بھی میرا یہی خیال ہے کہ انگریزوں میں اچھے آدمی ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ ایک نہ ایک دن ان کا برطانوی انصاف انہیں مجبور کر دے گا کہ اصول کو بھول کر انصاف قائم کریں اور جو ظلم ان کے نام پر کیا جا رہا ہے اس سے اپنی برأت کریں اور اپنے عمل سے بتا دیں کہ وہ اس میں شریک نہیں ہیں ۔ اس واسطے میں نے بجائے خاموش رہنے کے حکومت تک اس واقعہ کو پہنچا دینا مناسب سمجھا ۔ انسان خاموش اُس وقت ہوتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ کچھ بنتا نہیں مگر میں خاموش نہیں رہا اور مجھے یقین ہے کہ یہ معاملہ اس قدر واضح ہے کہ اس پر ضرور نوٹس لیا جائے گا لیکن اگر اس پر کوئی ایکشن نہ لیا گیا اور اس مجسٹریٹ کو سزا نہ دی گئی تو پھر میں سمجھ لوں گا کہ شور مچانا فضول ہے اور اس کے بعد غالباً خاموش ہو جاؤں گا خواہ کچھ ہوتا رہے ۔ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور تو اپیل دائر کر ہی چکے ہیں اب جو ہو گا سہتے رہیں گے دنیا میں لوگوں پر سختیاں بھی ہوتی ہیں اور نرمیاں بھی ۔ جب اللہ تعالیٰ پر ہمارا تو گل ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ سب بادشاہوں، وائسرائیوں اور گورنروں کے دل اسی کے قبضے میں ہیں تو یقین رکھنا چاہئے کہ وہ خود سے ہی فیصلہ کر دے گا ۔ معلوم ہوتا ہے حکومت پنجاب کے افسر غلط فہمی میں مبتلاء ہیں اور انہیں معلوم نہیں کہ ضلع گورداسپور کے بعض حکام دشمنی اور بے انصافی اور ظلم کی وجہ سے ہمیں تکلیف پہنچارہے ہیں ۔ ابھی تک وہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ حکام انصاف کرتے ہیں اور ہم شورش کر رہے ہیں اس لئے جس قدر مؤدب الفاظ میں ممکن تھا اور جس قدر نرم الفاظ میں بات کہی جاسکتی تھی میں نے کہہ دی ہے اس لئے مجھ سے کسی کو یہ شکوہ نہیں ہو سکتا کہ میں نے سخت کلامی کی ہے اور اسے یا اس کے افسروں کو بُرا بھلا کہا ہے باقی یہ واقعہ اپنی ذات میں اس قسم کا ہے کہ دنیا کی کسی اور قوم سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس