خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 208

خطبات محمود ۲۰۸ سال ۱۹۳۵ء الله عروسة صلى نہیں کیونکہ وہ تو اس پا یہ کے انسان تھے کہ اگر انہیں کہا جائے بیٹھ جاؤ تو ان میں سے سننے والا گلی میں ہی بیٹھ جاتا ہے۔ پھر صحابہ وہ قربانی کرنے والے انسان تھے کہ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں مجھے رسول کریم ﷺ کی باتیں سننے کا اس قدر شوق تھا تھا کہ کہ میں میں گھر نہ جاتا ا اور مسجد میں ہی بیٹھا رہتا یہاں تک کہ سات سات دن کے فاقے ہو جاتے ۔ میں خیال کرتا کہ اگر میں روٹی کھانے گیا تو ممکن ہے میرے بعد رسول کریم مسجد میں آ کر کوئی بات کریں اور میں وہ سننے سے محروم رہ جاؤں ۔ پس صحابہ تو ایسی قربانی کرنے والے انسان تھے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی باتیں سننے کے اشتیاق میں سات سات دن کا فاقہ برداشت کر لیتے پھر ان کے متعلق کس طرح باور کیا جا سکتا ہے کہ رسول کریم تو منبر پر کھڑے وعظ فرما رہے ہوں اور وہ بھاگ کر بازار میں مال خرید نے چلے گئے ہوں ۔ پس اس جگہ یہ مراد نہیں جو عام طور پر سمجھی جاتی ہے بلکہ تَرَکُوک میں ک سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی وجود ہے اور یہ آئندہ زمانہ کے متعلق پیشگوئی ہے کہ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوَا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوْكَ قَائِمًا غرض ان الفاظ میں پیشگوئی مخفی ہے کہ اے محمد ! ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب کہ تیری قوم بگڑتے بگڑتے ایسی حالت تک پہنچ جائے گی کہ کچھ حصہ اس کا دنیا کی تجارت کی طرف جھک جائے گا یعنی وہ اپنا مقصدِ حیات صرف دنیا کمانا قرار دے لے گا اور کچھ حصہ ایسا ہو گا جو لہو یعنی سستی اور غفلت میں مبتلاء ہو جائے گا ۔ گویا ایک حصہ عمل بد کی وجہ سے تجھے چھوڑ بیٹھے گا اور ایک حصہ غفلت ، ہستی اور بے عملی کی وجہ سے تجھے چھوڑ دے گا کیونکہ دین کے مقابلہ میں تجارت کا لفظ بد عملی پر دلالت کرتا ہے اور لھو کا لفظ بے عملی پر دلالت کرتا ہے ۔ لھو تو یہ ہے کہ سیر تماشا اور ہنسی مذاق کی باتوں میں اپنا وقت کھویا جائے اور تجارة کے معنی بد عمل کے ہیں یعنی دین کی بجائے دنیا کے کاموں میں اپنا وقت گزارا جائے پس فرمایا اے محمد ! ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب کہ تیری اُمت بگڑتے بگڑتے بد عملی اور بے عملی کی وجہ سے تجھے چھوڑ بیٹھے گی ۔ انفض کے معنی اِنْكَسَر کے بھی ہیں یعنی وہ تجھ سے قطع تعلق کرلے گی ۔ وَ تَرَكُوكَ قَائِمًا اور تو اکیلا رہ جائے گا کوئی دین کو پوچھنے والا نہ رہے گا ۔ یہ وہی امر ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس شعر میں بیان فرمایا ہے کہ ہر طرف کفر است جوشاں ہمچو افواج یزید