خطبات محمود (جلد 16) — Page 197
خطبات محمود ۱۹۷ سال ۱۹۳۵ء خدا تعالیٰ کے دین سے غافل ہو جاؤ گے تم میں بھی سستیاں اور کمزوریاں پیدا ہو جائینگی اور یہ دنیا کی پیدائش کے ساتویں ہزار سال میں ہو گا ۔ یا د رکھو تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ جس وقت تم جمعہ کی اذان سنو فوراً اس کی طرف دوڑ پڑو ۔ اسی طرح جب وہ ساتویں ہزار سال کی آواز بلند ہو تو یہ بہانہ نہ بنانے صلى الله لگ جانا کہ ہم قرآن مانتے ہیں، محمد ﷺ کو رسول تسلیم کرتے ہیں ، حدیثیں پڑھتے ہیں ، ہمیں اس آواز کے سننے کی کیا ضرورت ہے تمہیں قرآن کو مانتے ہوئے جمعہ کی نماز کی ضرورت ہوتی ہے یا نہیں ؟ تمہیں حدیث کو مانتے ہوئے جمعہ کی نماز کی ضرورت ہوتی ہے یا نہیں ؟ اگر ہوتی ہے تو کس طرح کہہ سکتے ہو کہ قرآن کو مانتے ہوئے تمہیں ساتویں ہزار سال کی خدائی آواز کو سننے اور اسکی طرف دوڑ پڑنے کی ضرورت نہیں ۔ جمعہ میں علاوہ عبادت ۔ اوہ عبادت کے کیا ہوتا ہے اور کس لئے خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ جب جمعہ کے دن اذان کی آواز آئے تو تم فوراً اس کی طرف چل پڑو اس لئے کہ ایک خطیب کھڑا ہو کر وعظ کرتا ہے صرف اس بات پر خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے کہتا ہے کہ جاؤ اور اس کی آواز سنو ۔ اگر ایک ملا بھی خطبہ کے لئے کھڑا ہو تو خدا تعالیٰ اُس وقت یہ کہتا ہے اس ملا کا خطبہ ہماری دو رکع ی دو رکعتوں کا قائم آخر محمد ﷺ نے صلى الله و از کوسنو ور نہ ہماری بے ادبی ہو جائے گی ۔ آ مقام ہے تم جاؤ اور اس کی آواز کو سنو ور نہ ہمار وجہ علیم علی نے ہی تو ہمیشہ خطبہ نہیں پڑھنا تھا پس یہ حکم آپ کو ہی مد نظر رکھ کر نہیں بلکہ تمام آنے والے خطیبوں کو مد نظر مد نظر رکھ کر ہے اسی لئے کہ جہاں جمعہ ہورہا ہو وہاں حکم ہے فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللہ کہ جاؤ اور خطبہ سنو ۔ جمعہ کس چیز کا نام ہے زید ، عمر یا خالد کے خطبہ کا مگر چونکہ وہ دورکعتوں کی قائم مقامی میں رکھا گیا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر خطبہ نہیں سنو گے تو وہ دور کعتیں جاتی رہیں گی اور نماز باطل ہو جائے گی ۔ یہی ہے کہ رسول کریم بڑے تعہد سے یہ یہ حکم علم دیا دیا کرتے کرتے تھے کہ جمعہ کے دن جلد سے جلد مسجد میں پہنچا جائے ( میں ضمنی طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ قادیان میں بعض لوگ درمیان خطبہ میں آتے ہیں ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے یہ ثابت ہے کہ بعض لوگ جب دیر سے آئے تو آپ نے ان سے جواب طلبی کی کہ دیر کرنے کی کیا وجہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ۔ جمعہ کے دن جب اذان ہو جائے تو جلدی کرو اور دوڑ پڑو تا خطبہ نہ رہ جائے ۔ بعض لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ جمعہ کیلئے جلدی کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ حکم اسی لئے دیا گیا ہے کہ تا خطبہ نہ رہ جائے ہاں جو لوگ اذان سے پہلے مسجد میں آجائیں گے