خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 167

خطبات محمود ۱۶۷ سال ۱۹۳۵ء عزیز بناتی ہے اسی طرح ذلیل بھی کر دیتی ہے ، جس طرح یہ حکیم بناتی ہے اس کی خلاف ورزی پاگل اور بے وقوف بھی کر دیتی ہے جب تم قرآن کو چھوڑ دو گے تو تمہاری مثال اُس گدھے کی سی ہو گی جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں ۔ یاد رکھو کہ تم سے پہلے یہود نے ایسا کیا اور ان کی حالت ذلیل ہو گئی ہے اگر کسی قوم کے پاس خدا کا کلام نہ ہو تو وہ عذر کر سکتی ہے کہ پتہ نہ تھا لیکن جب صداقت موجود ہو تو اس کا انکار کر کے کوئی قوم سزا سے کیونکر بچ سکتی ہے۔ ہر ہے۔ اس کے بعد فرمایا اللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ "ھدی کے معنی راستہ دکھانے یعنی کامیاب ہونے کے ہیں اور اس میں بتایا ہے کہ ظالم کو اللہ تعالیٰ کا میاب نہیں کرتا۔ جب کوئی قوم ظالم ہو جائے تو اس کی کامیابی کے رستے آپ ہی آپ بند ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک اٹل قانون ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں قائم کیا ہے مگر افسوس کہ لوگ بھول جاتے ہیں جس طرح موت اگر چہ یقینی ہے اور ہر شخص جانتا ہے مگر پھر بھی لوگ اسے بھول جاتے ہیں ۔ دنیا میں اور جتنی چیزیں ہیں ان میں سے کسی کو کوئی ملتی ہے اور کوئی کسی اور سے حصہ پاتا ہے ۔ آنکھیں ہیں کسی کی ہوتی ہیں کوئی نابینا ہوتا ہے، زبان ہے کوئی بولتا ہے کوئی گونگا ہوتا ہے ، جس ہے کسی کی ہوتی ہے اور کوئی فالج زدہ ہوتا ہے، بال کسی کے ہوتے ہیں اور کوئی گنجا ہوتا ہے ، ناک کسی کی ہوتی ہے کوئی نکٹا ہوتا ہے ہاتھ کسی کے ہوتے ہیں اور کسی کے شل ہوتے ہیں غرض دنیا کی کوئی چیز لے لوکسی کو کوئی ملی ہو گی اور کسی کو کوئی لیکن موت ایسی چیز ہے جس سے ہر جاندار حصہ لیتا ہے مگر پھر بھی لوگ اسے بھول جاتے ہیں آخری وقت آ پہنچے تب بھی یہی امید ہوتی ہے کہ شاید اب بھی بچ جائیں ۔ قوموں کی ترقی اور تنزل کا بھی یہی حال ہوتا ہے ایک قوم کو ترقی حاصل ہوتی ہے وہ سمجھ لیتی ہے اب تنزل نہیں ہو گا اور دوسری گر جاتی ہے اور پھر خیال بھی نہیں کر سکتی کہ ہمیں بھی ترقی ہوگی ۔ میں نے خود چوہڑوں وغیرہ کو سمجھایا ہے کہ تم اپنے آپ کو ذلیل نہ سمجھا کرو مگر وہ یہی جواب دیتے ہیں کہ جس طرح پر میشور نے ہمیں رکھا ہے ویسے ہی رہنا بہتر ہے، ان کے اندر ترقی کا احساس ہی نہیں رہتا ۔ تو یا د رکھنا چاہئے کہ جس طرح موت ہر ایک کے ساتھ لگی ہوئی ہے اسی طرح یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے کہ جب کوئی قوم ظالم ہو جائے ، خواہ وہ کتنی بڑی کیوں نہ ہو تنزل کرے گی ۔ ہم سمجھتے ہیں ہم ظلم سے ترقی کریں گے حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے ۔ اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں سچ بولنے سے گزارہ نہیں ہو سکتا حالانکہ قرآن کریم سے