خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 157

خطبات محمود ۱۵۷ سال ۱۹۳۵ء صا الله ۔ صلى الله نے ان میں وہی چاروں صفات پیدا کر دیں جو ہم ہر مؤمن میں پیدا کرنا چاہتے ہیں حالانکہ پہلے ان کے دلوں سے کوئی آواز نہ آتی تھی۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اس رسول کے آنے کے ساتھ ہی ان کے دلوں میں تسبیح کی آواز پیدا ہونی شروع ہو گئی ۔ جس طرح ایک واقف اور ماہر گویا سارنگی کی تاروں کو بجا کر ان سے قسم قسم کے گیت پیدا کر لیتا ہے اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ نے کیا اور سارا عرب تسبیح کی آوازوں سے گونج اُٹھا پس فرمایا یہ مثال تمہارے سامنے ہے ۔ کیا مکہ والوں کے دلوں سے کسی تسبیح کی آواز سننے کی توقع کی جاسکتی تھی ؟ کیا تم نہیں جانتے کہ وہ توحید سے عاری تھے اور بجٹوں پر فریفتہ ؟ مگر دیکھو تو محمد آئے تو آپ نے کس طرح ان میں سر میں پیدا کر دیں ۔ پس جس کو علم ہوتا ہے ، جو واقف اور ماہر ہوتا ہے وہ زمین کے ذرہ ذرہ سے تسبیح کی آوازیں پیدا کر لیتا ہے ۔اس مثال کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہے کہ جب دنیا سے بظاہر خدا تعالیٰ کی تسبیح مٹ جائے تو تم مت سمجھو کہ خدا تعالیٰ کی تسبیح مٹ گئی ہے ۔ تسبیح اس کے ذرہ ذرہ میں پائی جاتی ہے ہاں ضرورت ایک گویا کی ہوتی ہے ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو پیانو کی تاروں کو چھیڑے اور اس سے گا ڈسیو دی کنگ (GOD SAVE THE KING) کی آواز پیدا کرے ۔ اگر چاہو تو تم بھی زمین کے ذرہ ذرہ سے تسبیح کہلوا سکتے ہو مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ تمہیں واقفیت ہو ۔ تم روحانی گویے بننے کی کوشش کرو اور اگر تم روحانی گویے بن جاؤ گے تو زمین و آسمان کی بے جان چیزیں بھی سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ الله کہنے لگ جائیں گی ۔ پس ان آیات میں ایک طرف تو یہ بتایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ملک ہے ، قُدُّوس ہے، عَزِیز ہے، حکیم ہے اور دوسری طرف یہ بتایا کہ جس طرح ہم ملک ہیں اور زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ ہماری تسبیح کر رہا ہے ، جس طرح ہم قدوس ہیں اور دنیا کے ذرات ہماری قدوسیت کا اقرار کر رہے ہیں ، جس طرح ہم عزیز ہیں اور دنیا کے ذرات ہماری عزیزیت کا اظہار کر رہے ہیں ، جس طرح ہم حکیم ہیں اور دنیا کے ذرات ہماری حکمت کا اعتراف کرتے ہیں اسی طرح اگر تم بھی ملک بن جاؤ ۔ تم بھی قُدوس بن جاؤ تم بھی عَزِیز اور حکیم بن جاؤ تو تمہارے ہاتھوں بھی یہ دنیا کی چیزیں سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ کرنے لگ جائیں گی ۔ صرف اس امر کی ضرورت ہے کہ تم اپنے آپ کو جاہل نہ سمجھو بلکہ ملک، قُدُّوس ، عَزِیز اور حکیم سمجھو۔ غلطی تم کو یہ لگی ہوئی ہے کہ گویا تم کچھ بھی نہیں حالانکہ تم سب کچھ ہو ۔ تم ملک بھی ہو تم قدوس بھی ہو تم