خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 11

خطبات محمود 11 سال ۱۹۳۵ء سے بعض کی جانوں پر حملے ہوں ۔ چنانچہ انچہ مجھے قتل کی دھمکیوں کے کئی خطوط ملے ہیں لیکن میں ؟ ہیں لیکن میں پھر بھی یہی کہوں گا کہ الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ اپنے جوشوں کو اپنے قابو میں رکھیں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ دوہرے طور پر جکڑے ہوئے ہیں ۔ ان پر ایک قانون کی گرفت ہے اور ایک ہماری اور ہماری گرفت قانون کی گرفت سے بہت زیادہ سخت ہے ۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس ناراضگی کے بعد جو ہمارے دلوں میں پیدا کی جا رہی ہے، قانون کی گرفت کسی احمدی کے دل پر رہ سکتی ہے کیونکہ اشتعال اس قد رسخت ہے کہ صبر ہاتھوں سے نکلا جارہا ہے ۔ اگر احمدیت ہمیں نہ روکتی تو جس طرح سلسلہ کی بے حرمتی کی جا رہی ہے میں نہیں سمجھتا ایک منٹ کے لئے بھی قانون ہم میں سے کسی کو روک سکتا لیکن بہر حال قانون چلتا ہے اور ہمارا مذہب ہمیں اس کی پابندی کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ پس ایک طرف تو اس کی رکاوٹ ہے دوسری طرف سے ہماری گرفت جماعت کے دوستوں پر ہے کہ وہ حتی الوسع اپنے جذبات کو دبائے رکھیں اور ہماری گرفت ایسی سخت ہے کہ اس کے مقابل میں قانون کی گرفت کوئی چیز نہیں ۔ اور ان حالات میں میں دیکھ رہا ہوں کہ ان کے دل خون ہو رہے ہیں طبیعتیں بے چین ہیں صحتوں پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے اور انہیں موت سے زیادہ تلخ پیالہ پینا پڑ رہا ہے مگر میں پھر بھی یہی کہتا ہوں کہ میں ان کی تکالیف سے ناواقف نہیں ہوں ۔ جس وقت تک کہ میں دیکھوں گا کہ ہم دونوں پہلو نباہ سکتے ہیں ، میں ان کو صبر کی تلقین کرتا رہوں گا مگر جب میں دیکھوں گا کہ ہمارے صبر کی کوئی قیمت نہیں ، حاکم اسے کوئی وقعت نہیں دیتے بلکہ وہ اسے ہماری بزدلی پر محمول کرتے ہیں تو اس دن میں دوستوں سے کہہ دوں گا کہ میں ہر کوشش کر چکا لیکن تمہاری تکلیف کا علاج نہیں کر سکا اب تم جانو و اور قانون کیونکہ قانون صرف اپنی پابندی کا بندی کا مجھ سے مطالبہ کرتا ہے یہ مطالبہ یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ میں اس کے حکم سے بھی زیادہ لوگوں کو روکے رکھوں ۔ جیسا کہ میں اب کر رہا ہوں کہ جہاں قانون اجازت دیتا ہے وہاں بھی تمہارے ہاتھ باندھے رکھتا ہوں قانون یہ تو حکم دے سکتا ہے کہ یہ کرو اور وہ نہ کرو مگر اپنے مذہب کو اس کی تائید میں استعمال کرنے کا مجھے پابند نہیں کر سکتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تک جو احمدی جوش میں آتے ہیں وہ قانون کے منشاء سے بھی بڑھ کر اپنے نفس پر قابو رکھتے ہیں اور اس کا باعث میری وہ تعلیم ہے جو میں اسلام کے منشاء کے مطابق انہیں دیتا ہوں ۔ جب میری آواز انہیں آتی ہے کہ رک جاؤ تو وہ رک جاتے ہیں ۔ جیسا کہ احرار کے جلسہ پر ہؤا کہ میں نے انہیں کہا کہ خواہ کوئی