خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 111

خطبات محمود 111 سال ۱۹۳۵ء ہماری مخالفت تو دنیا میں اسی لئے ہو رہی ہے کہ ہم اس زمانہ کے مامور پر ایمان لائے ہم نے خدا تعالیٰ کو زندہ نشانات سے مانا اور ہم نے اسلام کے پھیلانے کا تہیہ کر لیا۔ پس لوگوں کو اگر دشمنی ہے صلى الله علوس تو خدا سے ، دشمنی ہے تو رسول کریم ﷺ کے نام سے ، اور دشمنی ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے۔ کوئی اس لئے ہمارا دشمن ہے کہ ہم نے خدا کو مانا ، کوئی اس لئے ہمارا دشمن ہے کہ ہم نے رسول کریم ﷺ کو مانا اور کوئی اس لئے ہمارا دشمن ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا۔ پس اس صورت میں نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ یہ سزا ہمیں نہیں مل رہی بلکہ ان تینوں کو مل رہی ہے اگر ہم دنیا میں اپنا نام پیش کرتے اور اپنی ذات لوگوں سے منواتے تو اس صورت میں سزا ہم پر نازل ہو سکتی تھی جیسے مغلیہ حکومت تباہ ہوئی تو وہ سزا مغلیہ حکومت کے لئے تھی نہ کہ خدا اور اس کے رسول کے لئے کیونکہ مغلیہ حکومت خدا کا نام دنیا میں نہیں پھیلاتی تھی بلکہ اپنی حکومت لوگوں سے منواتی تھی ۔ اسی طرح جو قو میں دنیا میں اپنی بڑائی کا اظہار کیا کرتی ہیں انہیں ان کے برے اعمال کی سزا مل جاتی ہے لیکن جو قوم خدا اور اس کے رسول کا نام دنیا میں پھیلا رہی ہو ، جس کے دل کے کسی گوشہ میں اپنی ذاتی بڑائی کا خیال تک نہ ہو ، جو ہمہ تن اسی ایک مقصد کے لئے منہمک ہو کہ دنیا پر خدا کا جلال ظاہر ہو، ایسے لوگوں پر خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا کس طرح نازل ہو سکتی ہے ۔ ہمارے کونسے کام ہیں جو ہم اپنے لئے کرتے ہیں ۔ ہمارے خاندان نے انگریزوں کی ہمیشہ خدمات کیں مگر ایک دفعہ بھی اس کے بدلہ میں کسی انعام کی خواہش نہیں کی بلکہ اگر کوشش کی تو یہ کہ مسلمانوں کا بھلا ہو جائے اور آئندہ بھی انشَاءَ الله تعالی ہم اپنی ذات کو کبھی پیش نہیں کرینگے ۔ پس ہم نے تو اپنے آپ کو ایسا خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دیا ہے کہ اب ہمارا مٹنا دنیا سے خدا تعالیٰ کے نام کا مٹنا قرار پاتا ہے ۔ ہم اپنے لئے دنیا سے کچھ نہیں مانگتے بلکہ خدا کے لئے اور اس کے دین کی اشاعت کے لئے مانگتے ہیں ۔ پھر جماعت کا کثیر حصہ ایسا ہے جو بھوکا رہتا ہے، پیاسا رہتا ہے ، ننگا رہتا ہے مگر دین کے لئے مالی قربانی کے مطالبہ کو پورا کرنے سے سرمو انحراف نہیں کرتا ۔ پھر کہا جائے کہ اشاعت دین کے لئے دوسرے ملکوں میں نکل جاؤ تو وہ اپنے بچوں ، اپنی بیویوں اور اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑ کر دور دراز ممالک میں اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے نکل جاتے ہیں اس پر بھی اگر ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا ہی ملنی ہے تو نہ معلوم اللہ تعالیٰ کا انعام کن نیکیوں پر ملا کرتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں جب تک ہماری جماعت کی یہ حالت رہے گی کہ وہ دین