خطبات محمود (جلد 15) — Page 2
خطبات محمود سال ۶۱۹۳۴ نتائج پیدا کئے ہیں تو یقیناً زیادہ کوشش بہت زیادہ شاندار نتائج کا موجب ہوگی۔ حقیقی مدح کے ی فوائد ہیں۔ وگرنہ غیر حقیقی مدح سوائے اس کے کہ دماغ خراب کردے، نیکی سے محروم کردے اور تکبر پیدا کرنے کا موجب ہو ، کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ پس جہاں میں ان تمام کارکنوں کا خواہ وہ بوڑھے ہوں یا بچے مرد ہوں یا عورتیں اپنی طرف سے اور مہمانوں کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں وہاں اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے جماعت کے لوگوں میں اخلاص پیدا کیا۔ اخلاص اللہ تعالی کے فضل کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔ بو علی سینا ایک دفعہ فلسفہ پر کوئی لیکچر دے رہے تھے۔ ایک شاگرد اس سے یہاں تک متأثر ہوا کہ اس نے کہا خدا نے کہا خدا کی قسم! آپ تو محمد" ذ محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں۔ بو علی سینا اُس وقت تو خاموش رہے۔ سردیوں کا موسم آیا تو ایک تالاب جس کا پانی منجمد ہو رہا تھا اور برف کی پڑیاں جم رہی رہی تھیں اور اس میں کودنا یقینی ہلاکت تھی، وہ سادگی سے شاگرد سے کہنے لگے کہ اس میں کود پڑو۔ اس نے جواب دیا آپ کا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا۔ اتنے بڑے طبیب ہو کر مجھے کہتے ہو کہ اس تالاب میں کود پڑوں جہاں کو دنا یقینا ہلاکت ہے۔ اس پر بو علی سینا نے کہا کہ نامعقول ! میں نے یہ حکم تمہیں یہ بتانے کیلئے دیا تھا کہ دیکھو ایک تم جو مجھ سے اس قدر عقیدت رکھنے کے مدعی ہو، میرے کہنے سے اس تالاب میں کودنے کیلئے تیار نہیں ہو لیکن محمد رسول اللہ کے ایک اشارہ پر تو ہزاروں لوگوں نے جانیں قربان کر دیں پھر تم مجھے اُس دن آپ سے افضل بتا رہے تھے۔ تو بڑائی باتوں میں نہیں بلکہ تأثیر سے ہوتی ہے جو خدا کی طرف سے عطا کی جاتی ہے۔ قلوب انسان کے اختیار میں نہیں ہوتے۔ داد اور زبانی واہ واہ تو ہو سکتی ہے مگر انسانی کوشش قلوب کو قابو میں نہیں کر سکتی۔ کسی بڑے لیکچرار کے لیکچر یا شاعر کے شعر پر لوگ وجد میں آجاتے ہیں، بعض سر دھننے اور ناچنے بھی لگ جاتے ہیں لیکن اگر ذوق اور غالب آکر کسی کو کہیں کہ اس شعر کیلئے مجھے سو روپیہ دے دو تو کوئی نہیں دے گا۔ ان کے اشعار پر خلوت و جلوت میں سر دھنیں گے، وجد میں آکر بعض بیہوش بھی ہو جائیں گے مگر سو روپیہ کی قربانی پر کوئی آمادہ نہ ہو گا۔ لیکن جن کو اللہ تعالی کی طرف سے برکات ملتی ہیں، ان کی باتیں سیدھی سادھی ہوتی ہیں۔ بعض اوقات بالکل بچوں کی سی باتیں ان کی ہوتی ہیں مگر ان کے پیچھے ایک ایسی زبردست طاقت ہوتی ہے کہ ایک ایک لفظ پر ہزاروں جانیں قربان کر دیتے ہیں اور یہی چیز بتاتی ہے کہ کس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت