خطبات محمود (جلد 15) — Page 64
خطبات محمود مل سال ۱۹۳۴ء بھولے علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کا حادثہ ہی ایسا حادثہ تھا کہ کئی لوگ مہینوں ایسی حالت میں رہے ہوئے پھرتے ہیں۔ مجھے کئی ایسے دوستوں کے نام یاد ہیں جو اپنے نہیں لوگوں کے سوالات لے کر گھبرائے ہوئے پھرتے اور ان کے جوابات دریافت کرتے پھرتے تھے۔ پھر سب جیسے بھو پر موت نہ کچھ سن کر یہی کہہ دیتے اگر خدا تعالی ابھی حضرت مسیح موعو موعود عليه الصلوة وال والسلام پر لاتا تو بہتر تھا۔ مجھے یاد ہے۔ آپ کی وفات کے کئی ماہ بعد میں ایک دفعہ بہشتی مقبرہ کی طرف سے واپس آرہا تھا کہ مدرسہ احمدیہ کے کمروں کے پاس سے جو گلی گزرتی ہے، وہاں تین دکانیں ہیں۔ پہلے وہاں اخبار بدر کا دفتر ہوتا تھا پھر دکانیں ہو گئیں، اب معلوم نہیں کیا ہے۔ وہاں ایک شخص نے مجھے کہا کہ رات دن مجھے یہی خیال رہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام وفات کیوں پاگئے۔ میں سمجھتا ہوں ممکن ہے کئی لوگ ایسے ہوں کہ اب تک جب علیحدگی میں ان کا خیال اس طرف جاتا ہو تو ان میں سے ہر ایک دل میں یہی کہتا ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ میری رائے پوچھتا تو میں یہی کہتا کہ ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی وفات نہیں ہونی چاہیئے تھی۔ بڑے بڑے واقعات تو در کنار چھوٹے چھوٹے واقعات بھی بعض دفعہ گہرا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ حضرت علی بھی اللہ کی نسبت لکھا ہے وہ ایک دفعہ مسح کرتے ہوئے کہنے لگے میں ہمیشہ مسح کے مقام پر حیرت میں رہتا ہوں۔ اگر اللہ تعالی میری رائے پوچھتا تو میں یہی کہتا کہ صبح یوں نہیں یوں کرنا چاہیے ہے۔ لة غرض انسان کی طبیعت پر بیسیوں واقعات اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ اور بعض اثرات نہایت گہرے اور تکلیف دہ ہوتے ہیں جو واقعہ کی شدت سے کم تکلیف دہ نہیں ہوتے۔ خصوصاً ان واقعات کے متعلق جو اہم نظر آتے ہیں یا جن ہیں یا جن میں جاری بالکل قریب دکھائی دیتی ہو۔ لیکن اللہ تعالی جو مصائب لاتا ہے ان میں کئی حکمتیں ہوتی ہیں۔ بعض اوقات ان کا مقصد دلور ولوں کو پاک کرنا ہوتا ہے، جماعت کی اصلاح ہوتی ہے۔ اس قسم کے ابتلاؤں میں سے حضرت سیح موعود علیہ السلام کا دعوی بھی ایک تھا۔ اُس وقت آپ سے اخلاص رکھنے والے بھی گھبرا گئے۔ یہ لوگ ہزاروں تھے بلکہ براہین احمدیہ کی شہرت کو مدن د مد نظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ لاکھوں آدمی آپ سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔ ایک کی تو شہادت بھی موجود ہے جو دعو پہلے ہی وفات پاگئے۔ یعنی صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی نے دعوی سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے لکھا۔ دعوی سے