خطبات محمود (جلد 15) — Page 530
خطبات محمود ۴۲ جلسہ سالانہ کے بابرکت ایام میں اپنی دعاؤں کو ہمیشہ اعلیٰ مقاصد پر مشتمل رکھو (فرموده ۲۸ - دسمبر ۱۹۳۴ء) سال ۱۹۳۴ء تشهد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- چونکہ آج کا دن ہمارے جلسہ کے ایام میں سے ایک دن ہے۔ اور اگر جلدی کار روائی شروع نہ کی جائے تو دوسرے وقت کا پروگرام بہت کچھ ادھورا رہ جائے گا۔ اس لئے میں صرف دو چار منٹ کے خطبہ پر ہی اکتفا کرنا چاہتا ہوں۔ یوں تو خطبے کا طریق ہی ابتدائے اسلام میں یہ ہوا کرتا تھا کہ خطبہ آدھا وقت لیتا تھا اور نماز اس سے دُگنا وقت مگر اُس وقت کے لوگ اشاروں میں بات کو سمجھ جانے کے عادی تھے مگر آج کل کے لوگ تفصیلات کے عادی ہو گئے ہیں اسی لئے قرآن مجید کی جن مختصر آیات سے اُس وقت کے لوگ اپنے دلوں کو صاف کرلیا کرتے تھے، اب ان پر کتابوں کی کتابیں لکھی جاتی ہیں تب کہیں لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس لئے موجودہ زمانہ کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے خطبے بھی لمبے ہو گئے ہیں۔ آج کا دن اسلامی روایات کے مطابق عید کا دن ہے بلکہ بعض ائمہ نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ جمعہ کا دن عیدین پر فضیلت رکھتا ہے کیونکہ جمعہ کے دن کا قرآن مجید میں خصوصیت سے ذکر کیا گیا ہے جبکہ عیدین کا اس رنگ میں قرآن مجید میں ذکر نہیں ہاں استنباط و استدلال کیا جاتا ہے مگر یہ ایک فرض مقرر کیا گیا ہے اور جمعہ کی آذان سن کر مسلمانوں کیلئے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ جس قدر جلد ہو سکے مسجد میں پہنچ جائیں۔