خطبات محمود (جلد 15) — Page 403
خطبات محمود سم سوم سال ۱۹۳۴ء خیر خواہی ناجائز ہوتی ہے اور اسی بناء پر سب لوگ ہمارے دشمن ہو گئے ہیں اور اب ہماری ترقی کو دیکھ کر سب جماعتیں پریشان ہو گئی ہیں اور ہمارے تباہ کرنے کیلئے متفق ہو گئی ہیں۔ یا پھر موجودہ فتنہ کی یہ وجہ ہے کہ اللہ تعالی ہماری آزمائش کرنا چاہتا ہے، ہم جو روزانہ اس کے سامنے فخر سے کہتے ہیں کہ اے اللہ ! ہم تجھ پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لائے اور اس کیلئے ہم ہر قسم کی قربانیاں کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اس کے مطابق اب خدا تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہم کس حد تک قربانیاں کرتے ہیں اور ہمارے دلوں میں کتنا ایمان ہے۔ پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اس امتحان میں کامیاب ہونے کی کوشش کرے۔ اگر ہماری جماعت اس میں کامیابی کیلئے کوشش نہیں کرے گی تو یقیناً وہ خدا کے سامنے جواب دہ ہوگی اور اگر وہ اس میں کامیاب ہو گئی تو پھر خدا تعالیٰ اس کے سامنے اور امتحان لائے گا جس میں اسے کامیاب ہونا پڑے گا کیونکہ خدا تعالی کی یہ سنت ہے کہ جب کوئی قوم ایک امتحان میں کامیاب ہو جائے تو دوسرا امتحان اس کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے۔ بڑی ڈگریاں حاصل کرنے کیلئے ہمیشہ پہلے چھوٹے امتحان پاس کرنے پڑتے ہیں۔ یہ پرائمری کا امتحان ہے جو تم نے پاس کرنا ہے اگر اس میں کامیاب ہو گئے تو پھر مڈل اور انٹرنس اور ایف اے اور بی اے وغیرہ کا امتحان دینا ہو گا۔ پس اگر تم ایم اے بننا چاہتے ہو تو نیچے کے امتحان پاس کرو اور اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو قربان کرنے کیلئے تیار ہو جاؤ اور حوادث کے سمندر میں یہ کہتے ہوئے کود جاؤ هرچه بادا باد ما کشتی در آب انداختیم اور یاد رکھو کہ ان امتحانوں کا پاس کرنا ذلت نہیں بلکہ ان میں سے نکلنے کے بعد ہر شخص کندن بنتا چلا جاتا ہے۔ سکیم کی اہمیت بتانے پر ہی میں آج کے خطبہ کو ختم کرتا ہوں اور سکیم کا حصہ اگلے جمعہ پر ملتوی کرتا ہوں کیونکہ میں نے جو نوٹ لکھے ہیں ان میں میں ابھی تک کوئی ترتیب قائم نہیں کر سکا۔ اس سکیم کے بیان کرنے میں جتنی دیر ہوتی چلی جارہی ہے اس سے ان لوگوں کے استقلال کا امتحان ہوتا جا رہا ہے جنہوں نے قربانی کیلئے اپنا نام پیش کیا، ان پولیس والوں کے صبر کا بھی امتحان ہو رہا ہے جو میرا خطبہ لکھنے کیلئے آجاتے ہیں، گورنمنٹ کے صبر کا امتحان بھی ہو رہا ہے کیونکہ وہ منتظر ہے کہ میں کیا کہتا ہوں۔ پس اس وقت سب کے صبر کا امتحان ہو رہا ہے بقیہ باتیں میں اِنْشَاءَ اللہ اگلے خطبہ جمعہ میں بیان کروں گا مگر مضمون کا پہلا حصہ