خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 395

خطبات محمود ۱۳۹۵ سال ۱۹۳۴ء مبتلاء ہو جائے مگر ہماری اطاعت چونکہ اصول مذہبی کی بناء پر ہے اس لئے ہم حکومت کی اطاعت سے کبھی انحراف نہیں کر سکتے گو اگر حکومت نے ہماری ہتک کا ازالہ نہ کیا تو پھر ہمارا تعلق اس سے محض قانونی اطاعت والا رہ جائے گا محبت والا تعلق باقی نہ رہے گا اور ہم ہر موقع پر اس سے سودا کیا کریں گے۔ پس گورنمنٹ ہمیں تاجر بنادے گی مگر ہم اطاعت پھر بھی کرتے رہیں گے۔ سیاسی مخالفت کی وجوہ میں سے ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ہم پکین اسلام ازم" کے مخالف ہیں حالانکہ جب میں یورپ گیا تو راستہ میں عربی ممالک میں اتحادِ اُم اسلامیہ کی سکیم میں نے بنائی جسے بعد میں شیخ یعقوب علی صاحب نے دوسرے سفر کے موقع پر اور پھیلایا اور پھر ان کے لڑکے شیخ محمود احمد صاحب نے بلاد اسلامیہ کے سفر میں لوگوں میں اس کی اشاعت کی جس کے نتیجہ میں مؤتمر اسلامی کا اجلاس ہوا۔ پس عالم اسلامی کے اتحاد کا میں بڑے زور سے قائل ہوں مگر میں اس اتحاد کا قائل نہیں جو لڑائیوں اور فتنہ و فساد کیلئے ہو، ہم اخلاق کو درست کر کے اتحاد رکھنے کے قائل ہیں۔ اس امر کے قائل نہیں کہ انگریزوں یا کسی دوسری قوم سے خواہ مخواہ لڑا جائے۔ غرض ان وجوہ سے سیاسی لوگ ہمارے مخالف ہیں اور چونکہ کچھ لوگ حکومت میں بھی کانگرسی خیال کے داخل ہیں وہ بھی ان وجوہ سے دل میں ہمارے مخالف ہیں۔ اور ایسے لوگ اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں پر ملتے ہیں چنانچہ عدم تعاون کی تحریک کے دنوں میں کئی ہندوستانی افسروں نے کانگرس کو مخفی امداد دی اور جو لوگ کانگرس کی مخالفت کرتے تھے انہیں دھمکایا اور ڈرایا کہ تم پالیٹکس میں دخل دیتے ہو۔ چنانچہ مجھے جب بعض واقعات معلوم ہوئے تو اس وقت میں نے لارڈ ارون (LORD IRWIN) کو لکھا کہ آپ کے بعض افسر اس قسم کے ہیں جو کانگرس کی تحریکات کا مقابلہ کرنے سے بھی اپنے آدمیوں کو روکتے اور اسے پالیٹکس میں دخل قرار دیتے ہیں جس کا صاف یہ مطلب ہے کہ وہ کانگرس کے مؤید ہیں۔ اس پر حکومت نے یہ اعلان کیا کہ گورنمنٹ کی تائید میں حصہ لینا منع نہیں گورنمنٹ کے خلاف حصہ لینا منع ہے۔ مجھے کئی ایسے افسروں کا علم ہے جنہوں نے کانگرس کے خلاف کام کرنے والے افسروں پر خوب ظلم کئے اور انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ یہ کانگرس سے ہمدردی رکھنے والے افسر ہمیشہ کانگرس کو حکومت کی خبریں پہنچاتے رہتے ہیں چنانچہ بائیکاٹ کے زمانہ میں ریلوے کے کئی ایسے افسر جب بھی انگریزی مال آتا تھا، کانگرس والوں کو اطلاع دے دیتے تھے۔ اسی