خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 31

خطبات محمود ۳۱ سال ۶۱۹۳۴ وحیاں بھی ہوئیں جنہیں احادیث قدسیہ کہا جاتا ہے مگر وہ سب قرآن کے تابع ہیں۔ تمام علوم قرآن میں موجود ہیں۔ اور اسی سے حاصل کرکے آپ نے وہ تعلیم دی کہ جس کا مقابلہ اور کوئی تعلیم نہیں کر سکتی۔ وہ قرآن کریم اب بھی ہے مگر اس کے پڑھنے والے معمولی علم رکھنے والوں سے بھی شرمندہ اور ذلیل ہوتے ہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ قرآن ایک مخفی خزانہ ہے جس کے حصول کیلئے جس کوشش، اخلاص اور نیکی کی ضرورت ہے، وہ اب قرآن پڑھنے والوں میں نہیں۔ دو ہی باتیں ہیں یا تو یہ کہ قرآن کے متعلق ہمارے دعاوی غلط ہیں، وہ علوم کا خزانہ نہیں رسول کریم ال نے یہ تعلیم کسی اور جگہ سے حاصل کرکے دی۔ یا پھر یہ کہ پڑھنے والوں کے اندر وہ چیز نہیں جس کی علوم قرآنی حاصل کرنے کیلئے ضرورت ہے اور آخری بات ہی صحیح ہے۔ ہمارے ملک میں یہ وباء ہے کہ عوام تو رہے علماء بھی قرآن نہیں پڑھتے۔ حتی کہ مدارس اسلامیہ میں بھی قرآن کا ترجمہ نہیں پڑھایا جاتا۔ پہلے طالب علم عربی پڑھتے رہتے ہیں اور جب اس سے واقف ہو گئے تو تفسیر شروع کرادی جاتی ہے اس لئے مولوی قرآن کریم کے ترجمہ سے گھبراتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سوائے قرآن کے ایک ترجمہ کے جو زیادہ مقبول نہیں ہوا باقی قرآن کریم کے جتنے تراجم ہیں وہ سب غیر علماء نے کئے ہیں۔ ایک ترجمہ فتح محمد صاحب جالندھری نے کیا ہے جو عالم نہ تھے۔ دوسرا ڈپٹی نذیر احمد صاحب دہلوی نے کیا ہے، وہ بھی عالم نہ تھے بلکہ سرکاری عہدیدار تھے۔ اور ان کا ترجمہ ہی زیادہ مقبول ہوا ہے۔ مرزا حیرت نے بھی ترجمہ کیا مگر وہ بھی عالم نہیں تھے ۔ ہمارے ملک کے علماء کہلانے والے جلالین، بیضاوی کشاف پڑھ لینا ہی کمال سمجھتے ہیں یا پھر اگر کوئی زیادہ بلند پروازی کی طرف مائل ہوا تو اس نے تفسیر رازی پڑھ لی اور سمجھ لیا کہ ہم نے قرآن سیکھ لیا ہے۔ قرآن کریم پر تدبر کی انہیں عادت ہی نہیں۔ ان کی یہ بہت بڑی خامی ہے کہ انہوں نے عقل انسانی پر کفایت کرلی اور اللہ تعالی سے مدد کی انہیں کوئی توقع نہ رہی۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ رسول کریم ﷺ قیامت کے روز کہیں گے۔ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا۔ اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا۔ صرف قرآن نہیں فرمایا بلکہ هَذَا الْقُرْآنَ فرمایا۔ یعنی یہ قرآن جو اس قدر برکات والا ہے اسے چھوڑ دیا اور اس سے توجہ ہٹالی۔ ہماری جماعت کے کئی دوست مجھ سے پوچھتے رہتے ہیں کہ قرآن کریم کا