خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 328

خطبات محمود ۳۲۸ سال ۱۹۳۴ء نہ سن سکیں۔ ہم نے تو انگریزوں کے متعلق بھی دیکھا ہے کہ اگر کہیں شور ہو تو وہ کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جاتے ہیں مگر یہ عجیب مصیبت تھی کہ قانون احراریوں نے توڑا، حکم کمیٹی نے دیا کھڑے شور سن کر راہ گیر ہوئے اور بلایا اور دھمکایا احمد یہ جماعت کے کارکنوں کو جانے لگا کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ اس قسم کی زندگی امن کی زندگی ہے۔ سمال ٹاؤن کمیٹی گورنمنٹ کی بنائی ہوئی ہے اور احراری جب اس کے بنائے ہوئے ایک قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو حکومت کا ہی ایک آدمی انہیں منع کرتا اور اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ وہ قانون کی پابندی کریں۔ پس قانون کی پابندی کرانے والی سمال ٹاؤن کمیٹی اور قانون کو توڑنے والے احراری مگر الزام ہمارے ذمہ لگایا جاتا ہے اور ہمارے آدمیوں کو بلا بلا کر ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے۔ ہم بہتیرا کہتے ہیں کہ نہ ہم سمال ٹاؤن کمیٹی سے تعلق رکھتے ہیں، نہ ہم نے قانون بنایا اور نہ ہی اس قانون کو توڑا کچھ تو سمجھاؤ کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ قانون شکن احراری ہیں مگر انہیں کچھ نہیں کہا جاتا اور جن کا اس سے کچھ بھی تعلق نہیں، ان سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے احراریوں سے کیوں یہ سلوک کیا۔ کیا کسی شخص کے دماغ میں بھی یہ بات آسکتی ہے کہ یہ جو کچھ کیا گیا قانون کے مطابق کیا گیا اور احمدیوں پر ظلم نہیں کیا گیا اور ناواجب دباؤ نہیں ڈالا گیا۔ خیر شور و شر کے بعد جب جماعت کے کارکنوں نے ثابت کر دیا کہ اس بارہ میں ان کا کوئی دخل ہی نہیں تو اب حکام نے ایک اور کروٹ بدلی اور یہ کہنا شروع کیا کہ چونکہ کمیٹی میں تمہاری اکثریت ہے، اس لئے تم ہی اس امر کے ذمہ دار ہو۔ تم ممبران کمیٹی کو مجبور کرو کہ احراریوں سے درخواست منگوا کر اور فوری اجلاس کرکے احرار کو مسجد کی تعمیر کی اجازت دیں۔ اب کوئی انصاف پسند حج گورنمنٹ مقرر کر کے دیکھ لے معمولی سے معمولی عقل رکھنے والا شخص بھی یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گا کہ احمدیوں کو ناواجب طور پر ستایا اور دکھ دیا گیا اور ان کے امن میں خلل ڈالا گیا۔ آخر یہ بھی کہا گیا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب کا ارادہ ہے کہ اگر فوراً اس فتنہ کو دور نہ کیا گیا تو دونوں فریق کی دفعہ ۱۰۷ کے ماتحت ضمانتیں لی جائیں گی۔ شاید جب سے لوکل سلف گورنمنٹ کا قانون بنا ہے یہ نہ ہوا ہو گا کہ کمیٹی اپنے اختیارات سے ایک کام کرے اور دفعہ ۱۰۷ امن پسند شہریوں پر لگانے کی دھمکی دی جائے۔ یہ سلوک یہاں احرار سے روا رکھا گیا اور ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا گیا کہ ایک احمدی نے اپنے مکان اور مسجد کیلئے ایک زمین لی، وہاں کے مقامی افسران نے جو تعصب رکھتے ہیں، جھٹ رپورٹ کرکے