خطبات محمود (جلد 15) — Page 324
خطبات محمود ۳۳۴۴ سال ۱۹۳۴ء ہوئی وہ اس کا نتیجہ تھا۔ پس میں نے گورنمنٹ کی حمایت کیلئے اپنے عزیزوں سے لڑائی کی۔ اور اپنی جماعت کے لیڈروں سے اختلاف کیا۔ میری عمر اس وقت چوبیس سال تھی میں جماعت کا کوئی افسر نہ تھا کہ اس پر میرا اثر ہوتا۔ اس زمانہ میں جماعت کو دھوکا دے دے کر ورغلایا گیا اور اسے میرے خلاف اکسایا گیا مگر اس تعلیم کے ماتحت کہ گورنمنٹ کے راستہ میں مشکلات پیدا نہیں کرنی چاہئیں میں نے بڑوں کا مقابلہ کیا اور جماعت کے دوستوں پر زور دیا کہ ہمیں گورنمنٹ کی وفاداری کا حکم دیا گیا ہے اور جماعت میں اپنی پوزیشن کو نہایت کمزور کر لیا مگر آج مجھ پر یہ اتہام لگایا گیا ہے کہ میں جماعت میں گورنمنٹ کے خلاف جوش پھیلانے والا ہوں۔ بیشک ایک کانگرسی ہم کو پاگل سمجھے گا کیونکہ اس کے نزدیک گورنمنٹ کا تختہ الٹ دینے والا اور ڈس او بیڈ نیس کا مرتکب ہونے والا ایک قابل فخر شخص ہے مگر ہم اسے اپنے لئے عار سمجھتے ہیں۔ وہ اگر پبلک کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں تو یہ کہہ کر کہ اے لوگو میں وہ ہوں جس نے گورنمنٹ کا تختہ الٹنے کیلئے فلاں فلاں کام کیا، میں وہ لیڈر ہوں جو ڈس اوبیڈینس کا مرتکب ہوا پس وہ اپنے افعال پر فخر محسوس کرتے ہیں اور ان کیلئے یہ بات سمجھنا نا ممکن ہے کہ سول ڈس او بیڈ نیس یا حکومت کا تختہ الٹ دینے کے الزام میں ہتک کیونکر ہوگئی لیکن افسوس یہ ہے کہ برطانیہ کے افسر بھی اس امر کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس الزام میں کوئی ہتک ہوتی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ بھی حکومت سے وفاداری کے جذبہ کو مذہبی رنگ میں دیکھنے سے قاصر ہیں اور ان کے دلوں میں بھی گورنمنٹ کی وفاداری کا وہ جذبہ نہیں جو ہمارے ولوں میں پایا جاتا ہے ان کے نزدیک یہ ایک معمولی بات ہے۔ مگر میں ڈس او بیڈینس کے الزام کو اپنے لئے ایک بدترین گالی تصور کرتا ہوں۔ پس ہماری عجیب حالت ہے کہ کانگرسی تو ہمیں یہ کہتے ہیں کہ تم پاگل ہوئے گورنمنٹ نے تمہیں انعام دیا اور تمہاری یہ تعریف کی کہ تم اس کے تختہ کو اُلٹنے والے ہو مگر تم نے اس کی کوئی قدر نہ کی اور اسے اپنی ہتک تصور کرنے لگے اور گورنمنٹ کے لوگ ہمیں یہ کہتے ہیں کہ اتنی سی بات تھی جسے افسانہ کر دیا گویا ان کے نزدیک یہ کوئی اخلاقی یا مذہبی مجرم ہی نہیں۔ پس ہمارے لئے یہ عجیب مصیبت ہے اور ہم حیران ہیں کہ اس کو سمجھائیں یا اُس کو۔ میں نے بتایا تھا کہ اگر صرف یہی ایک