خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 252

خطبات محمود ۲۵۲ سال ۱۹۳۴ء ان کی آواز اس قدر بلند ہو گئی کہ جب وہ اذان دیتے تو یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ الفاظ نکل رہے ہیں بلکہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ توپ کے گولے چل رہے ہیں۔ پس آواز میں بلندی پیدا کی جاسکتی ہے اگر طالب علموں کو کہا جائے کہ آواز بلند کرو ورنہ سزا دی جائے گی اور اس کا مقابلہ کرایا جائے۔ ایک آدمی کو دور کھڑا کر دیا جائے اور طلباء سے اسے آواز دلوائی جائے اور پھر فاصلہ آہستہ آہستہ زیادہ کیا جائے تو آواز دُگنی لگنی ہو سکتی ہے۔ یہاں کے ایک مؤذن بھی ایسی ہی کمزور آواز والے ہیں اور جب وہ اذان دیتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا کسی بچہ کے منہ پر کسی نے تھپڑ مارا ہے اور وہ رو رہا ہے۔ اگر کوئی قرآن کریم کی قراءت اس طرح کرے تو لوگ شور مچادیں لیکن اذان کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی حالانکہ اس کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ میں نے دیکھا ہے عام طور پر مؤذن مُحَمَّد یا مُحَمَّدٌ کہتے ہیں۔ اسی طرح أنْ لا إلهَ إِلَّا الله الا اللہ کہتے ہیں حالانکہ نون نہیں بولتا اور پھر انہیں کوئی سمجھاتا بھی نہیں حالانکہ یہ چھوٹی سی چیز ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ اسے درست نہ کیا جائے۔ سے ان سے گل میں نے بعض نوجوانوں کو کھڑا کر کے اذان دلوانی شروع کی تو وہی مثل صادق آئی کہ بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں سُبْحَانَ اللهِ ۔ چھوٹی پود کی تو یہ حالت ہے آئندہ لوگوں کو شاید ان کے ہونٹوں کے ساتھ کان لگا کر آواز سننی پڑے گی۔ ہم نے ۲۵ سال گلے سے کام لیا ہے مگر آواز اب بھی خدا کے فضل بلند ہے۔ میں نے مہتمم اطفال کو ہدایت کی ہے کہ روزانہ تین لڑکے چن لیں اور ان سے اذان دلوایا کریں تاکہ ان کی آواز بلند ہو۔ ہم تو اس کے اتنے شوقین تھے کہ عصر کی اذان کے وقت دور سے بھاگتے تھے اور کئی کئی اذانیں دے دیتے تھے۔ پہلے میں آیا میں نے اذان دی، پھر میرا کوئی ساتھی آگیا تو اس نے بھی دے دی پھر تیسرا آیا اس نے بھی دے دی۔ اس پر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے ہمیں تو کیا کہنا تھا مگر بڑوں کو ڈانٹا کہ کیا ایک اذان کافی نہیں؟ لیکن سکھانے کیلئے زیادہ اذانوں میں بھی کوئی حرج نہیں۔ پس روزانہ آواز کی مشق کراؤ۔ ایک شخص کو فاصلے پر کھڑا کر دو اور تین لڑکوں سے اذان دلواؤ۔ پھر اسے روزانہ پرے کرتے جاؤ اور دیکھو کہ آواز کتنی بڑھی ہے۔ دو تین ماہ اسی طرح مشق کراؤ پھر دیکھو۔ اول تو اس دن کے بعد ہی لڑکوں کو اس قدر شوق ہو جائے گا کہ گلی کوچوں میں اذانیں دیتے پھریں گے۔ اگر ایک دن کوئی مبلغ آجائے تو بچے کئی روز تک نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے رہتے ہیں۔