خطبات محمود (جلد 15) — Page 220
خطبات محمود ۲۲۰ ۲۵ دعوتِ طعام اور اسلامی آداب (فرموده ۱۰- اگست ۱۹۳۴ء) سال ۱۹۳۴ تو تشد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں نے کئی دفعہ اپنے خطبات میں جماعت کے احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ مومن کا ہر کام عقل کے ماتحت ہونا چاہیے۔ مومن اور بیوقوفی جمع نہیں ہو سکتی، اس لئے کہ بیوقوفی کی بات پر لوگ ہنسا کرتے ہیں اور مومن اپنی کامیاب راہوں میں ہنسی کے قابل نہیں ہوتا۔ دشمن ہنسے تو نے، جائز طور پر اس کی کسی بات پر ہنسی نہیں کی جاسکتی کیونکہ خدا تعالیٰ نے مومن کو عزت کیلئے بنایا ہے، نہی کیلئے نہیں بنایا۔ اور جسے خدا نے عزت کیلئے بنایا ہو اس کی باتیں نہی کے قابل نہیں ہونی چاہئیں تاکہ وہ اس مقام سے نہ گر جائے جس پر خدا تعالی نے اسے کھڑا کیا ہے۔ مگر باوجود بار بار توجہ دلائے جانے کے ہمارے احباب ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں جو بعض دفعہ غلط اخلاص کی وجہ سے بعض دفعہ غلط محبت کی وجہ سے بعض دفعہ بیوقوفی کی وجہ سے اور بعض دفعہ بعض لوگوں کی منافقت کی وجہ سے مضحکہ انگیز ہو جاتی ہیں۔ ८ پچھلے دنوں ایک واقعہ ہمیں یہاں ایسا پیش آیا ہے کہ گو میں اپنی طبیعت کے لحاظ سے اس کے بیان کرنے میں شرم محسوس کرتا ہوں یا اس لئے کہ اپنے دوستوں کے نقص کا ذکر کرنا پڑتا ہے۔ مجھے اس کے بیان کرنے پر شرم محسوس ہوتی ہے مگر چونکہ میرے سپرد جماعت کی تربیت کا کام بھی ہے، اس لئے میرا فرض ہے کہ گو مجھے اس کے بیان کرنے پر شرمندگی