خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 214

خطبات محمود الد رحمت سال ۱۹۳۴ ۶ ڈال دی اور وہ سب کیلئے کافی ہو گیا۔ بعض کہتے ہیں اللہ تعالی کی حکمت سے ان کی پیاسوں میں کمی ہو گئی اور وہ تھوڑے پانی سے مجھ گئیں۔ جو بھی صورت : و اخفاء اخفاء کا پہلو بہر حال موجود ہے۔ تو دعا جہاں کام کرتی ہے وہاں بھی ظاہری اخفاء ضرور ہوتا ہے۔ پھر یہ بات ہوتی بھی بالکل شاذ ہے۔ رسول کریم ای کی زندگی میں چند ایک واقعات ہی ایسے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی زندگی میں بھی ایک دو ہی ہیں۔ ممکن ہے بعض انبیاء کی زندگیوں میں ایسا واقعہ کوئی بھی نہ ہو۔ دنیا لاکھوں کروڑوں سال سے چلی آتی ہے بلکہ قرآن کریم سے تو معلوم ہوتا ہے کہ اربوں بلکہ ان گنت سالوں سے چلی آرہی ہے۔ اور اگر اتنے لمبے عرصہ میں چند سو دفعہ ایسے واقعات رونما ہو گئے تو ان کی ان دوسرے واقعات کے مقابلہ میں کیا گنتی ہے جو ہر شخص کے سامنے روزانہ گذرتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ دعا کی قبولیت بھی سامانوں کو چاہتی ہے۔ کوئی افسر مہربان ہو گیا اور ترقی مل گئی ، تجارتی مال پک گیا اور اس طرح قرض اُتر گیا یا نفع ہو گیا کوئی قید تھا بادشاہ مرگیا یا اس کی تخت نشینی ہوئی اور قیدی چھوٹ گئے۔ دیکھنے والا اسے اتفاق کہتا ہے مگر مومن سمجھتا ہے کہ یہ دعا کا نتیجہ ہے۔ پس سامانوں کو مد نظر رکھنا خدا تعالیٰ نے دعا کے باوجود ضروری قرار دیا ہے۔ مگر بعض لوگ وہ ہیں جو ذرائع پر اتکال کر لیتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو سمجھتے ہیں جب ہم نے ایک دو دفعہ ہاتھ اٹھا کر دعا کردی اور اس سے فلاں چیز مانگ لی تو اب اللہ تعالی کا فرض ہو گیا کہ ہمیں دے۔ پھر بعض لوگ سامان کرتے ہیں مگر بالکل لکھتے اور ان کی حالت ویسی ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کوئی برہمن دریا پر نہانے گیا سردی سخت تھی اور وہ حیران تھا کہ کیسے نہاؤں، اتنے میں اسے ایک اور برہمن دریا سے واپس آتا ہوا ملا۔ اس نے پوچھا سردی تو بہت سخت ہے تم کس طرح نہائے۔ اس نے کہا میں تو چند کنکریاں دریا میں پھینک کر اور یہ کہہ کر تور اشنان سو مور اثنان واپس آگیا ہوں۔ اس پر وہ کہنے لگا اچھا تو پھر تور اشنان سو مور اثنان" اور وہ بھی گھر لوٹ آیا۔ تو بعض لوگ ایسے سامان مہیا کرتے ہیں جو سامان کہلانے کے مستحق نہیں ہوتے۔ قلب کی صفائی کیلئے اللہ تعالٰی نے بعض ایسے کلمات بتائے ہیں جو اس کی محبت اس کے عفو، اس کے غفران اس کی رحمانیت اس کی رحیمیت، اس کی رحمت اور قوت پر دلالت کرتے ہیں۔ انہیں پڑھنے کیلئے ایک شخص نماز میں کھڑا ہوتا ہے۔ لیکن وضو نہیں کرتا یا اگر کرتا ہے تو احتیاط سے نہیں کرتا۔ یا اگر وضو ٹھیک کرتا ہے تو نماز بے توجہی سے پڑھتا ہے وہ ایک نامکمل سی چیز پیش کرتا ہے۔