خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 196

خطبات محمود 194 سال ۱۹۳۴ء شخص نے ایک میز بنوائی جس کی عمر میں سال تک ہونی چاہیئے لیکن بنانے والے نے ناقص لکڑی لگادی، اسے ٹھیک طرح صاف نہ کیا روغن اچھا نہ کیا اور وہ ایک سال کے بعد ٹوٹ پھوٹ گئی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے پچانوے فیصدی کھا لیا مگر روپیہ کھانے والا اتنا کبھی نہیں کھا سکتا۔ روپیہ میں زیادہ سے زیادہ میں پچیس فیصدی کھایا جاسکتا ہے۔ اگر کسی شخص کو دس ہزار روپیہ کوئی سامان خریدنے کیلئے دیا جائے اور وہ نو ہزار نو سو کا سامان خریدے اور سو روپیہ کھا جائے تو بیشک اس نے بڑا جرم کیا لیکن جو شخص کام میں بد دیانتی کرے اور اصل قیمت لے کر ناقص چیز مہیا کردے وہ بہت زیادہ مجرم اور خطرناک مجرم ہے۔ فرض کرو کسی حکومت نے سامان جنگ بنوایا مگر بنانے والے گولہ بارود ایسا بنا دیں جو میدانِ جنگ میں پھس پھس کرکے رہ جائے تو اس کے نتیجہ میں جس قدر جانیں ضائع ہوں گی، ان سب کی ذمہ داری بنانے والوں پر ہوگی۔ ان سے وہ شخص بدرجہا اچھا ہو گا جس نے روپیہ میں سے ایک آنہ کھالیا اور پندرہ آنے کی چیز اچھی مہیا کر دی۔ اسی طرح جو شخص دس گھنٹہ کی مزدوری لے کر پانچ گھنٹہ کام کرتا ہے وہ گویا پچاس فیصدی کھالیتا ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ ہمارے ملک میں روپیہ کھا جانے والوں کو تو بہت بُرا سمجھا جاتا ہے لیکن کام خراب کرنے والوں کو کوئی بد دیانت نہیں کہتا حالانکہ یہ اس سے بہت زیادہ اور سخت خطرناک بددیانت ہوتے ہیں کیونکہ کام میں بد دیانتی کے نتائج بعض اوقات سخت خطرناک نکلتے ہیں۔ میں نے کسی رسالہ میں ایک مضمون پڑھا تھا کہ ترکی کی ایک جنگ میں سپاہیوں کو جو کارتوس مہیا کئے گئے ان میں لکڑی ٹھونسی ہوئی تھی۔ ترک مرنے مارنے پر آمادہ تھے مگر ان کی جانبازی کسی کام نہ آسکی کیونکہ سامان خریدنے والے نے صندوق کھول کر دیکھا ہی نہ تھا کہ اندر کیا بھرا ہوا ہے۔ اگر وہ پچاس لاکھ میں سے صرف چالیس لاکھ کا سامان خرید تا اور دس لاکھ کھا جاتا تو گو وہ بد دیانت ٹھر تا مگر اس کی بد دیانتی اس قدر نقصان کا موجب نہ ہوتی جتنی اس کی یہ غفلت ہوئی۔ خواہ اس نے مال خریدنے میں کوئی بد دیانتی نہ کی اور ایک پیسہ بھی نہ کھایا مگر اس کی سستی ہزاروں جانوں کے اتلاف کا باعث بن گئی اور ترکوں کو اپنے ملک سے محروم ہونا پڑا۔ اگر وہ دس لاکھ روپیہ کھا جاتا تو یہ بد دیانتی اس غفلت سے بدرجہا اچھی ہوتی کیونکہ دس لاکھ روپیہ تو ایک شہر کی قیمت بھی نہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں کام کی بد دیانتی کو برا نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی غفلت کو کوئی جرم خیال کیا جاتا ہے ہاں مالی خیانت کو بہت بُرا خیال کیا جاتا ہے۔