خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 153

خطبات محمود ۱۵۳ سال ۱۹۳۴ء کا حال ہے وہ مشہور مصور لکھتا ہے کہ میں ایک مصور ہونے کی حیثیت سے عورتوں اور مردوں کے ننگے جسم دیکھنے کا اتنا عادی ہوں کہ کسی دوسرے کو اتنا دیکھنے کا بہت ہی کم موقع ملتا ہے اس لئے میں ایک ماہر فن ہونے کے لحاظ سے مشورہ دیتا ہوں کہ ننگا جسم خوبصورتی پیدا نہیں کرتا بلکہ بسا اوقات مرد کی نگاہ میں ایسی عورت بدصورت سمجھی جاتی ہے اس لئے اگر عورتیں اپنے جسم کو اس لئے ننگا رکھتی ہوں کہ وہ زیادہ سے زیادہ مردوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ سکیں تاکہ وہ ان کے حُسن کی تعریف کریں تو میں انہیں مشورہ دوں گا کہ جسم کو ننگا رکھنا چھوڑ دیں کیونکہ اس سے بسا اوقات مردوں کے دل میں بجائے تعریفی جذبات پیدا ہونے کے نفرت کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں اور بجائے متوجہ ہونے کے وہ دُور ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک ماہر فن کی رائے ہے اور اُس ملک کے ماہر فن کی جس کی عورتیں زیادہ سے زیادہ اپنے آپ کو ننگا رکھتی ہیں۔ پس اس کی رائے بہت وزن دار اور معقول ہے کیونکہ اول تو مصور کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ جسم کو اس کی اصل حالت میں ظاہر کرے۔ خوبصورت کو خوبصورت اور بدصورت کو بدصورت ظاہر کرے جس طرح ڈاکٹر ایک شخص کی تندرستی یا بیماری کے متعلق صحیح رائے رکھنے والا ہوتا ہے، اسی طرح مصور بھی انسانی جسم کی خوبصورتی یا بدصورتی کے متعلق صحیح رائے رکھتا ہے کیونکہ اس کی معاش کی صورت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے فن میں ماہر ہو اور انسانی جسم کا جو حصہ بدصورت ہو اس کی بدصورتی اور جو خوبصورت ہو اس کی خوبصورتی نمایاں کرکے دکھائے۔ پس ایسے شخص کی رائے اس قابل ہوتی ہے کہ اس پر غور کیا جائے۔ گو ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہر انسان کی رائے قابلِ عمل ہوتی ہے مگر بہر حال یورپ والوں کیلئے ایک حد تک اس ماہرین کی رائے کو وزن دینا ضروری ہے۔ اور اس میں شبہ نہیں کہ بہت حد تک یہ بات صحیح بھی ہے کہ انسانی جسم کے کئی حصے ننگے کر دینا خوبصورتی نہیں بلکہ بدصورتی پیدا کرتا ہے۔ ممکن ہے اس میں کچھ حصہ عادت کا بھی ہو لیکن بہت حد تک اس میں حقیقت کا دخل ہے۔ باقی مثالیں ممکن ہے عریاں ہو جائیں، اس لئے میں انسانی سر کی مثال دیتا ہوں۔ کئی لوگ ایسے ہیں جو سر پر پگڑی باندھتے ہیں، کئی ہیں جو ٹوپی رکھتے ہیں اور کئی ہیں جو سر ننگا رکھتے ہیں۔ چنانچہ بنگال کے مرد اور یورپ کی عورتیں سروں کو ننگا رکھنے کی عادی ہیں لیکن ٹوپی یا پگڑی اُتار دینے سے سر پوری طرح ننگا نہیں ہوتا۔ بلکہ اس پر قدرت کی طرف سے ایک