خطبات محمود (جلد 15) — Page 148
خطبات محمود ۱۴۸ سال ۱۹۳۴ ضلع میں غیر احمدیوں نے ایک جلسہ کیا جس میں احمدیوں سے وعدہ کیا کہ احمدیت کے خلاف کچھ نہ کہا جائے گا مگر جو مولوی آئے انہوں نے مقامی لوگوں کے روکنے کے باوجود احمدیت کے خلاف زور لگایا۔ ایک مشہور مولوی صاحب نے کہا کہ مولوی ظفر علی اس وقت مرزائیوں کے پیچھے خوب پڑا ہوا ہے۔ اے مسلمانو! تم اس اس کا ساتھ دو اور احمدیت کو کچل ڈالو۔ ایک اور مولوی صاحب نے اول الذکر مولوی صاحب کے جواب میں کہا ظفر علی احمدیت کی مخالفت کر کے سخت ذلیل ہو گیا ہے اس کا ساتھ دینے سے احمدیت اور پھیلے گی۔ اس پر پہلے مولوی صاحب نے کہا بڑے بڑے تمام شہروں سے مرزائیت مٹ رہی ہے۔ اس کا جواب دوسرے مولوی صاحب نے یہ دیا کہ یہ بالکل غلط ہے کہ احمدیت مٹ رہی ہے بلکہ ہماری سخت مخالفت کے دباؤ کے باعث اور اُبھر رہی ہے۔ میں جس قدر گریجوایٹوں، وکیلوں، بیرسٹروں اور جوں وغیرہ سے ملتا ہوں، وہ سب احمدیوں کے قریب ہوتے جارہے ہیں عام لوگوں میں بھی یہی رجحان ہے۔ ایک اور مولوی صاحب نے کہا فلاں مولوی صاحب تو یہ کہتے ہیں کہ تمام شہروں سے احمدیت مٹ رہی ہے لیکن ہمارے گھروں میں تو اب گھنی شروع ہوتی ہے میرے نہایت سمجھدار چار رشتہ دار حال ہی میں احمدی ہو گئے ہیں۔ پس قلوب تیار ہیں سستی ہماری طرف سے ہی ہے۔ لوگوں کی مثال اس وقت پیاسے کی ہے اور جب ایک انسان پیاسا مر رہا ہو اور دوسرے کے پاس پانی ہو لیکن وہ پانی دے کر اس کی جان نہ بچائے تو وہ کس قدر مجرم ہوگا۔ پس دوستوں کو چاہیے کہ ہمت سے کام کریں۔ لاہور پنجاب کا مرکز ہے اور اگر ہمارے دوست ہمت کرکے اسے ان ظلمات اور بدعات سے جو اس وقت دنیا میں پھیل رہی ہیں، بچالیں تو سارے صوبہ پر اس کا اثر ہو سکتا ہے۔ پھر ساری دنیا میں زیادہ تر تبلیغ پنجابیوں کے ذریعہ ہی ہو رہی ہے۔ نوے فیصدی چندہ اور کارکن پنجاب سے ہی ملتے ہیں اس لئے اگر احمدیت لاہور میں مضبوط ہو جائے تو لازماً پنجاب میں بھی مضبوط ہوگی اور اس طرح گویا ساری دنیا میں مضبوط ہوگی۔ پس میں امید کرتا ہوں کہ دوست اس طرف اب زیادہ توجہ کریں گے اور جو سکیم منظور ہوتی ہے اس پر عمل شروع کر دیں گے۔ میں تو ایک دو دن میں چلا جاؤں گا افسوس ہے کہ میرے یہاں ہوتے ہوئے اصل کام کے متعلق مجھے کوئی رپورٹ نہیں ملی۔ اگر مل جاتی تو ممکن ہے میں کوئی مفید مشورہ دے سکتا اور خوش جاتا، تاہم میں امید کرتا ہوں کہ جب پھر آؤں گا تو اس کام کو زیادہ شاندار اور نتائج خیز صورت میں دیکھوں گا۔ میں اللہ تعالٰی سے دعا