خطبات محمود (جلد 15) — Page 118
خطبات محمود ۱۴ سال ۱۹۳۴ء مومن کا دائرہ محبت بہت وسیع ہونا چاہیے (فرموده ۱۳- اپریل ۱۹۳۴ء) تشهد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- مجھے اپنی خلافت کے ایام میں پہلی مرتبہ اس قسم کا سفر در پیش ہوا جیسا کہ گزشتہ ہفتہ میں لائل پور کا پیش آیا تھا اور میں اس سفر سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جہاں ایک طرف مخالفت زوروں پر ہے اور دشمنانِ احمدیت ناخنوں تک کا زور لگا کر یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح سلسلہ عالیہ احمدیہ کو نقصان پہنچائیں اور اسے لوگوں کی نظروں سے گرادیں، کہیں اور ٹریکٹوں کتابوں اور ان اشتہاروں کے ذریعہ کہیں اخباری مضامین کے ذریعہ ذریعہ ، کہیں لیکچروں تقریروں کے ذریعہ ، کہیں منظم سوسائٹیوں کے ذریعہ کہیں حکومت کے اراکین میں غلط پروپیگنڈا کرکے، کہیں عوام کو یہ اشتعال دلا کر کہ احمدیوں کی جماعت مسلمانوں کی سیاسی طاقت کو توڑ دے گی، کہیں کانگرسیوں کو یہ کہہ کر کہ یہ گورنمنٹ کے خوشامدی ہیں، کہیں حکومت سے تعاون کرنے والوں پر یہ اثر ڈال کر کہ یہ حکومت کے باغی ہیں۔ غرض ہر رنگ میں ہر قسم کی اضداد استعمال کرتے ہوئے، کہیں باغی کہہ کر اور کہیں خوشامدی بتا کر، کہیں بے وقوف کہہ کر اور کہیں عقلمندوں کا جتھا قرار دے کر، کسی سے یہ کہہ کر کہ یہ اسلام کے بڑھانے اور اسے تمام ادیان پر غالب کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور کسی سے یہ کہہ کر کہ یہ اسلام کے مثانے کے درپے ہیں۔ غرض جتنے اضداد دنیا میں ممکن ہو سکتے ہیں، وہ سب سلسلہ احمدیہ کے خلاف استعمال کئے جاتے ہیں۔ اور ایک نادان و ناواقف