خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 102

خطبات محمود ۱۰۲ سال ۱۹۳۴ء بھی اُس وقت تک نہیں دیا جاسکتا جب تک مخلوق نہ ہو۔ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ بھی مخلوق کی متقاضی ہے کیونکہ جب تک نیک و بد انسان نه نہ ہوں اس صفت کا ظہور نہیں ہو سکتا۔ گویا چاروں صفات مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں۔ صفات تنزیمیہ کی کُنہ کو انسان نہیں پہنچ سکتا ان کا ظهور صفات تشبیبیہ سے ہی ہوتا ہے جو ان کی تابع ہیں۔ ان دونوں کا باہم کیا تعلق ہے یہ بات بندہ کے علم سے بالا ہے اسی لئے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ ہے یعنی بندہ کو کام پر لگا کر اللہ تعالٰی پھر صفات تنزیسیہ کی طرف چلا جاتا ہے۔ وہ صفات تشبیهیه جن پر عرش قائم ہے، وہ گویا چار پائے ہیں جن کے واسطہ سے صفات تنزیمیہ کا ظہور مخلوق پر ہوتا ہے۔ جیسے تخت کا واسطہ زمین سے پاؤں کے ذریعہ ہوتا ہے اصل چیز اوپر ہوتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفات اور بندے کے درمیان یہ بطور واسطہ ہیں۔ جس طرح پایہ کے ذریعہ تخت کے اوپر جاسکتے ہیں اسی طرح ان صفات کے ذریعہ انسان ترقی کر سکتا ہے۔ جب انسان اپنے اندر یہ صفات پیدا کرتا ہے تو اگرچہ ان کی گنہ تک اس جہاں میں پہنچنا تو ناممکن ہے، اگلے جہاں کا علم خدا کو ہے مگر ان سے میں ضرور پیدا ہو جاتا ہے۔ جس طرح آگ کے پاس جو بیٹھے، وہ گو آگ کی طرح روشن نہ ہو مگر اس کی گرمی اسے ضرور پہنچے گی۔ ایسا شخص صفات تنزیمیہ کا عکس اپنے اندر ضرور پاتا ہے۔ سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالی نے سالک کیلئے ضروری کام بیان فرماتے ہیں پہلے فرمایا رَبُّ الْعَلَمِينَ وہ اپنے کو داروغہ سمجھے مگر واروغہ سزا کا نہیں بلکہ پرورش کا۔ یہ نہیں کہ جس کسی کے پاس سے گزرے اسے ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگ جائے کہ ایسا کیوں کرتے ہو ویسا کیوں نہیں کرتے۔ بلکہ ایسا داروغہ جو دوسرے کی تکالیف کو دیکھ کر انہیں دور کرنے کا اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھے ۔ رَبُّ الْعَلَمِينَ کا تعلق ربوبیت کے ساتھ ہے اس لئے وہ داروغہ بنے مگر ربوبیت کے لحاظ سے۔ یا پھر باپ بنے اور ہر ایک کی پرورش اور ترقی کیلئے کوشش کرے۔ دوسری چیز رحمانیت ہے بعض لوگ رَبُّ الْعَلَمِينَ اور رحمانیت کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں حالانکہ دونوں میں بہت فرق ہے۔ بظاہر تو بے شک ربوبیت میں ہی رحمانیت آجاتی ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو آنکھیں دیں ، کان دیئے ہاتھ پیر دیئے ، کھانے کیلئے غلے اور پھل وغیرہ دیئے یہ رحمانیت ہے۔ لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ رحمانیت ہے تو رَبُّ الْعُلَمِينَ ہوا۔ جو چیزیں رحمانیت کے ماتحت بیان کی جاتی ہیں، وہ وہ دراصل ساری کی ساری وه کیسے