خطبات محمود (جلد 14) — Page 81
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہے کہ وہ حقیقی فتح تلاش کرے۔ وہ فتح جو نا جائز ذرائع سے حاصل ہو، وہ فتح جس کے حاصل کرنے کیلئے ایسی تدابیر اختیار کرنی پڑتی ہوں جو انسانیت اور شرافت کے خلاف ہوں ، وہ مومن کیلئے فتح نہیں شکست ہے۔ دشمن کا مار دینا کتنی کامیابی کی بات سمجھا جاتا ہے مگر رسول کریم صلی اسلام کے زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ جنگ کے میدان میں جنگ میں شامل ہونے والی ایک عورت کی لاش ملتی ہے۔ جنگ بھی ایسی جس کی فتح پر اسلام کی فتوحات کا انحصار تھا۔ اور دشمن بھی ایسا جس نے اپنی ساری عمر اسلام کے مٹانے کیلئے خرچ کر دی تھی ۔ ایسا دشمن مارا جاتا ہے۔ ایسی لڑائی فتح ہوتی ہے۔ لیکن ایک عورت کی لاش دیکھ کرمحمد صلی الہیم کی ساری خوشی غم میں بدل جاتی ہے۔ آپ کے چہرہ پر ایک رنگ آتا اور ایک جاتا۔ صحابہ کہتے ہیں ہم نے کبھی رسول کریم صلی السلام کو اتنا غضب میں نہیں دیکھا جتنا اُس روز اے ۔ اس میں رسول کریم صلی ال ای ایم کا کوئی دخل نہ کو تھا۔ اسلامی لشکر کا کوئی دخل نہ تھا۔ ایک ایسے موقع پر جبکہ اپنے پرائے میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور بسا اوقات ایک اپنا اپنے ہاتھ سے قتل ہو جاتا ہے، اتفاقا حادثہ کے طور پر وہ عورت ماری جاتی ہے۔ لیکن چونکہ اس سے اسلامی فتح مشتبہ ہو جاتی اور دشمن کو انگشت نمائی کا موقع ملتا تھا۔ وہ کہہ سکتے تھے محمد ( صلی یا ایلیم) کے متبعین نے عورت کو قتل کر دیا۔ اس لئے رسول کریم صلی اسلام کو یہ حملہ بہت ہی سخت نظر آیا اور آپ کی ساری خوشی غم سے بدل گئی ۔ جو دراصل سبق ہے اس بات کا کہ آپ کے نزدیک فتح کوئی چیز نہ تھی، بلکہ نیک اور جائز ذرائع سے حاصل کردہ فتح کی قیمت آپ کے دل میں تھی ۔ رض ایک اور موقع پر کچھ صحابہ بعض لوگوں پر حملہ کر کے ان کا مال لے آئے ۔ جس وقت حملہ کیا گیا حج کے ایام آچکے تھے اور اُن دنوں لڑائی جائز نہ تھی۔ اس موقع پر بھی رسول کریم صلی السلام کا چہرہ غمگین ہو گیا۔ اور آپ نے فرمایا تم نے یہ کیا کیا۔ پھر جو مارے گئے ان کا خون بہا دیا گیا ہے اس لئے نہیں کہ عام جنگی قوانین کے لحاظ سے یہ کوئی بری بات تھی۔ ہمیشہ لوگ ایسا کرتے اور خود عرب کے لوگ کرتے ، بلکہ محض اس لئے کہ رسول کریم صلی السلام کا نقطہ نگاہ دوسروں سے بالا تھا۔ پس یا د رکھو ہماری جماعت کا مقصد فتح حاصل کرنا نہیں ، بلکہ دین اور اخلاق کے ذریعہ فتح حاصل کرنا ہے۔ بسا اوقات انسان کو یہ نظر آتا ہے کہ فتح میرے ہاتھ میں ہے اور بسا اوقات وہ خیال کرتا ہے کہ تھوڑے سے مکر سے تھوڑے سے فریب سے تھوڑے سے دغا سے اور تھوڑے سے جھوٹ سے وہ اسے حاصل کر سکتا ہے۔ ممکن ہے وہ نہ سے 79