خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 79

خطبات محمود نیکی اور تقویٰ کے ذریعہ فتح حاصل کرو فرموده ۳۱ مارچ ۱۹۳۳ء) سال ۱۹۳۳ء تشهد ، تعو ذاور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: فتح کا کا لفظ ایک ایسا ایسا خوش کن لفظ ہے کہ انسانی طبیعت بے بے اختیار اس کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔ فتوحات کے زمانہ میں فاتح کے عیب بھی خوبیاں بن جاتی ہیں اور اس کے نقص بھی کمال نظر آتے ہیں ۔ چنانچہ دیکھ لو۔ ہمارے ہی ملک میں کچھ عرصہ پہلے جب مسلمان فاتح اور حکمران تھے۔ ہندو اسلامی لباس فیشن کے طور پر اختیار کرتے تھے۔ وہ لمبے لمبے جیتے جنہیں آج مسلمان بھی ترک کر بیٹھے ہیں اُس زمانہ میں ہندو فخر سے پہنتے اور فارسی میں شعر کہنا ایک ہندو کی عزت افزائی کا موجب سمجھا جاتا۔ جس طرح آج مسٹر نائیڈو اور ٹیگور اپنی قوم میں معزز قرار دیئے جاتے ہیں، اس لئے کہ انہوں نے مغربی علم ادب کا تتبع کیا ہے۔ ٹیگور مغربی نقطۂ نگاہ پر اپنے خیالات کے اظہار کیلئے اور مسٹر نائیڈو انگریزی اظہار خیال کیلئے ۔ اسی طرح اُس زمانہ میں مرز اقتیل کی بڑی عزت تھی۔ کیونکہ وہ فارسی میں اچھے شعر کہتے تھے ۔ آج فارسی کا پڑھنا معیوب ہے۔ فارسی اور عربی دان مثلا اور ملنٹ کہلاتے ہیں ۔ اور عالم صرف وہی شخص سمجھا جاتا ہے جو انگریزی پڑھا ہوا ہو۔ مگر آج سے دو اڑھائی سو سال پہلے علم کے معنے یہ تھے کہ لوگ عربی یا فارسی پڑھے ہوئے ہوں ۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ اس زمانہ میں انگریزی کو کوئی خصوصیت حاصل ہے۔ یا پہلے زمانہ میں عربی اور فارسی کو کوئی خصوصیت حاصل تھی بلکہ صرف یہ ہیں کہ اُس زمانہ میں فارسی اور عربی فاتحین کی زبان تھی اور اس زمانہ میں انگریزی 77