خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 74

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کیونکہ تمہارے پاس یہی چیز ہے جس سے کامیابی ہوگی ۔ وہ اگر گالیاں بھی دیں تو جیسے شہد کے چھتے پر اگر کوئی شخص پتھر مارے تو اُس سے شہد ہی ٹپکے گا۔ اسی طرح تمہارا فرض ہے کہ تم گالیوں کے جواب میں دعائیں دو۔ یہ مت خیال کرو کہ نرمی سے کیا بنتا ہے۔ دل اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں۔ نرمی کا اثر ہوتا ہے اور آخر سخت دل سے کیا بھی جھکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ پس تم ثابت کر دو کہ تمہارے اندر نیکی اور تقویٰ ہے۔ اگر مخالف پتھر مارتے ہیں تو تم دعا ئیں دو۔ گالیاں دیتے ہیں تو انہیں برداشت کرو۔ اور اللہ تعالیٰ سے روروکر دعا ئیں کرو کہ ان لوگوں کو ہدایت دے۔ اور یاد رکھو کہ اگر اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو گے تو اس کی نصرت اور تائید ایسے رنگ میں ظاہر ہوگی کہ انسانی تدابیر اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی ۔ باقی حکومت ہر جگہ ساتھ نہیں دے سکتی وہ جنگلوں اور پہاڑوں میں ہمارے ساتھ نہیں ہو سکتی۔ چین، جاپان ، افغانستان ، مصر اور شام وغیرہ میں اس حکومت کی تائید ہمارا کچھ نہیں بنا سکتی۔ پس ساری دنیا میں پھیلنے کا عزم رکھنے والی قوم کو کسی ایک جگہ کے آدمیوں کی دوستی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایسی ہستی سے دوستی پیدا کرنی چاہئے جو ہر جگہ موجود ہے اور وہ خدا تعالیٰ ہے۔ 링 ھے بخاری کتاب الجهاد باب يقاتل من وراء الامام ويتقى به تر مذی ابواب الزهد باب في الصبر على البلاء العنكبوت: ٢٣ الرعد : ١٨ انوار الاسلام صفحه ۲۳، ۲۴ روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۳، ۲۴ الفاتحة:ه ( الفضل ۲۳۔ مارچ ۱۹۳۳ء) بخاری کتاب الاحكام باب ما ذكر ان النبي لم يكن له بواب ، بخارى كتاب الجنائز باب زيارة القبور يس : ٣١ بخارى باب كيف كان بدء الوحي الى رسول الله ﷺ ن مسلم كتاب الجهاد والسير باب مالقى النبي من أذى المشركين والمنافقين 72