خطبات محمود (جلد 14) — Page 66
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کر تو سب کو صبر آ جاتا ہے کے۔ غرض مصائب کا وقت ہی ہوتا ہے جب صبر کا موقع ہوتا ہے۔ اور اسی موقع پر صبر کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل نازل فرمایا کرتا ہے پس ان باتوں کی پرواہ نہ کرو اور دشمن جو کچھ کہتا یا کرتا ہے، اسے کہنے اور کرنے دو۔ صبر اور حلم سے ان تمام باتوں کو برداشت کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارا اس ذریعہ سے امتحان لینا چاہتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے۔ گالیاں سن کر دعا کبر کی عادت جو دو پا کے دکھ آرام دو دیکھو تم دکھاؤ انکسار یہی مومن کی نشانی ہوتی ہے۔ اس خیال کو جانے دو کہ گورنمنٹ سے امداد کی اپیل کی جائے بعض نے مجھے بھی کہا ہے کہ ”زمیندار“ کے متعلق گورنمنٹ کو توجہ دلائی جائے۔ مگر میں نے کہا یہ فضول بات ہے۔ گورنمنٹ ہماری مخالفت سے کس کس کو روکے گی ۔ آج اس نے فرض کرو پنجاب میں اس مخالفت کو روک بھی لیا تو گل صوبہ سرحد میں ہماری مخالفت شروع ہو جائے، پرسوں یو پی میں شروع ہو جائے ، پھر کون ہماری حفاظت کرے گا ۔ اور اگر فرض کر لیا جائے کہ گورنمنٹ آف انڈیا ہندوستان میں سے ہماری مخالفت کو دور بھی کرے تو گل اگر چین میں ہماری مخالفت شروع ہو جائے ، افغانستان ہمارا دشمن ہو جائے، مصر اور شام میں عداوت کی آگ مشتعل ہو جائے ، پھر کس گورنمنٹ سے کہیں گے۔ پس یہ طریق فضول ہے اگر افغانستان کے احمدی گالیاں کھا سکتے بلکہ اپنی جانیں احمدیت کے راستہ میں قربان کر سکتے ہیں تم کوئی وجہ نہیں کہ ہم گالیوں سے گھبرا جائیں اور اگر ہم گھبراتے ہیں تو اس کا صاف طور پر یہ مطلب ہے کہ ہم بز دل ہیں۔ انگریزی حکومت اگر خود اپنی فرض شناسی کا ثبوت دیتے ہوئے کوئی قدم اُٹھاتی ہے تو یہ اس کا اپنا کام ہے۔ اگر وہ سمجھتی ہے کہ احمدی ظالم ہیں تو وہ خود دخل دے اور اگر سمجھتی ہے کہ غیر احمدی ظلم کر رہے ہیں تو وہ آپ دخل دے۔ اس طرح اگر وہ دخل دے گی تو ہم سمجھیں گے کہ یہ خدائی فعل ہے۔ اور اگر وہ دخل نہیں دیتی تب بھی ہم یہی سمجھتے ہیں کہ یہ خدائی فعل ہے۔ پس گالیوں سے گھبرانا نہیں چاہئیے ۔ اور اگر گالیاں سن کر تمہیں تکلیف ہوتی ہے تو قرآن مجید نے اس کا علاج بھی بتا دیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جہاں گالیاں دی جا رہی ہوں وہاں سے اُٹھ کر چلے آنا چاہئیے ۔ اس اصل کے مطابق جس اخبار میں تمہیں گالیاں دی جاتی 64