خطبات محمود (جلد 14) — Page 45
خطبات محمود تبلیغی جد و جہد کے ساتھ دُعائیں بھی کرو فرموده ۱۰۔ مارچ ۱۹۳۳ء) سال ۱۹۳۳ء تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ اس ہفتہ میں ہمارے دوسرے یوم التبلیغ کی تاریخ تھی اور جور پورٹیں باہر سے آئی ہیں اور جو کام اس جگہ ہوا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریک بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت کچھ برکت کے سامان اپنے اندر رکھتی ہے اور اس کے نتیجہ میں دنیا کی اصلاح کی بہت کچھ امید کی جا سکتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام اللہ تعالیٰ کے کلام میں جَرِيٌّ اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ لے رکھا گیا ہے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا بہادر جرنیل جو تمام انبیاء کے لباس پہن کر آیا ہے۔ ہر نبی کا خلعت ، وہ خلعت جو حضرت موسی کو دیا گیا ، وہ خلعت جو حضرت عیسی کو دیا گیا ، وہ خلعت جو حضرت کرشن ، حضرت رام چندر ، حضرت بدھ ، حضرت زرتشت، کو دیا گیا غرض کہ جو کسی بھی ملک اور کسی بھی قوم کے نبی یا اوتار کو دیا گیا وہ سارے کے سارے جمع کر کے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس جرنیل کو پہنا دیئے ہیں۔ یہ کوئی معمولی الہام نہیں ، کوئی معمولی دعوی نہیں ۔ محلل سے مراد اور خلعتوں کے معنی وہ کپڑوں کا لباس نہیں جو انبیاء اپنے اپنے زمانوں میں پہنتے تھے۔ یہ معنے تو بالبداہت غلط ہیں ۔ محلل سے مراد یقینا وہی لباس ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو پہنائے تھے ۔ یعنی تقویٰ کا لباس مراد ہے، جسے قرآن کریم نے حقیقی لباس قرار دیا ہے ۔ یا وہ انعامات الہی کا لباس مراد ہے جو کہ ان کی ترقیات کا معیار ہوتا ہے۔ اس کے ذریعہ انسان کے مدارج کو پہچانا جاتا ہے۔اور 43