خطبات محمود (جلد 14) — Page 37
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کر دیتا گالیاں دیتا ہے اسی طرح ہم بھی اسے گالیاں دیں ۔ مگر یہ بدلہ کوئی صحیح بدلہ نہیں ہوگا قتل اور گالی یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جن سے اسلام نے منع کیا ہے۔ اور اگر کوئی شخص قتل کرتا یا بالمقابل گالیاں دینا شروع کا ہے تو وہ بھی اُسی صف میں کھڑا ہو جاتا ہے جس میں دشمن کھڑا ہے۔ آخر دشمن کیوں برا ہے؟ کیا اسی لئے نہیں کہ وہ نبیوں کی تعلیم سے انکار کرنے والا ہے۔ پس اگر تم بھی نبیوں کی کسی تعلیم کا انکار کرتے ہو تو تم بھی بڑے سمجھے جاؤ گے اور بجائے دشمن کو نقصان پہنچانے کے اپنا نقصان کر بیٹھو گے۔ آخر اس کمبخت نے تو مرنا تھا ہی ، آج نہیں تو کل مر جائے گا۔ تم اگر اسے قتل کرتے ہو تو یہ تمہاری کوئی کامیابی نہیں ۔ یا گالیاں دیتے ہو تو یہ تمہارے لئے کوئی عزت کی بات نہیں بلکہ تم اپنا ہی نقصان کرتے ہو۔ پس یہ طریق بدلہ لینے کا نہیں ۔ بدلہ لینے کا طریق یہ ہے کہ ہم دشمن کے وہاں چوٹ لگا ئیں جو ہمارے لئے عزت کا موجب ہو اور اُس کیلئے فائدہ کا باعث ہو۔ دیکھو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ تم ہمیں برا تو کہتے ہو لیکن أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا تَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ، کچھ پتہ بھی ہے، تمہارے بیٹے اور بیٹیاں، بھانجے اور بھانجیاں ، عزیز اور رشتے دار سب کو ایک ایک کر کے محمد صلی السلام کی گود میں لا رہے ہیں۔ اسلام کے زمانہ میں ہمیں یہ نظارے نظر آتے ہیں۔ ایک شخص شدید دشمن ہوتا ، رات اور دن رسول کریم صلی ال اسلام کی مخالفت میں لگارہتا مگر وہ خود یا اس کا کوئی عزیز بیٹا یا بیٹی، بیوی یا بہن داخل اسلام ہو جاتی ۔ حضرت عمرؓ کا ہی واقعہ ہے۔ وہ اپنی جوانی کے دنوں میں اسلام کی مخالفت : بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے۔ حتی کہ ان کے گھر کی ایک خادمہ مسلمان ہو گئی تھی ، وہ اسے سخت پیٹا کرتے۔اور جب خود مسلمان ہو گئے تو وہ یہ کہ کر چڑایا کرتی کہ تم تو مجھے مسلمان ہونے کی وجہ سے پیٹا کرتے تھے، اب خود مسلمان ہو گئے ہو۔ انہوں نے ایک دفعہ عزم کیا کہ رسول کریم ملی پی ایم کو قتل کر دیں۔ تلوار سنبھالے جارہے تھے کہ راستہ میں انہیں ایک دوست ملا۔ اس نے پوچھا خیر تو ہے، کدھر کا ارادہ ہے؟ کہنے لگے محمد (صلی ای ) کو قتل کرنے جا رہا ہوں۔ اس نے کہا واہ واہ بڑے با غیرت ہو محم مالی اسلام کو وقتل کرنے چلے ہو مگر اپنے گھر کا حال معلوم نہیں کہ بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں۔ کہنے لگے ہیں! یہ بات ہے، اچھا میں پہلے ان کا ہی صفایا کرتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے رسول کریم صلی اللہ ہمیشہ دعا فرما یا کرتے تھے کہ یا اللہ ! ابو جہل یا عمر بن الخطاب ان دونوں میں سے کسی کو مسلمان کر دے کیونکہ یہ دونوں پر جوش اور اعزاز میں 35