خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 323

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء روک کو دور کرنے کی طرف توجہ کریں اور جماعت احمدیہ کے ماتھے پر جو یہ داغ لگا ہوا ہے اسے مٹائیں مگر با وجود اس کے کہ میں بار بار انہیں توجہ دلانے کی کوشش کرتا رہا ہوں ، انہوں نے اس داغ کو مٹا یا نہیں ۔ اور نہ سلسلہ احمدیہ کی ترقی میں جو روک واقع ہو رہی ہے اسے دور کیا ہے۔ میرا منشاء تھا کہ میں دو چار منٹ میں جلسہ سالانہ میں تقریر کے موقع پر اس امر کے متعلق بھی کچھ بیان کر دوں گا۔ لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ اصلی مضمون ادھورا رہ جائے گا ۔ یہ اور اس طرح کے کئی دوسرے نوٹ نظر انداز کر دیئے۔ آج جمعہ کیلئے آتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ پانچ سات منٹ میں میں اس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر دوں تا مولوی ثناء اللہ صاحب کو شکوہ نہ رہ جائے ۔ اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ میری بات کا جواب نہیں دیا گیا۔ پہلی بات تو اشتہار سے یہ ظاہر ہو رہی ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کو فکر ہے کہ جماعت احمدیہ کی ترقی کے راستہ میں وہ روک بن رہے ہیں ۔ مگر مولوی صاحب کو سلسلہ کی ترقی کے متعلق جتنا فکر ہونا چاہئیے وہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ اگر واقعہ میں ان کا وجود ہمارے راستہ میں روک بنا ہوا ہوتا تو وہ بحث کی طرف آتے ہی کیوں ، خاموش بیٹھے رہتے ۔ لیکن ان کا بحث کی طرف آنا بتا تا ہے کہ ان کا یہ خیال غلط ہے۔ مجھے ان کا یہ اشتہار پڑھ کر وہی لطیفہ یاد آ گیا جو کسی نے مجازی رنگ میں جانوروں کے منہ سے بیان کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ کوئی گیدڑ تھا اس نے ایک دفعہ تمام گیدڑوں کو جمع کیا۔ اور کہا ہم پر جو مصیبت آتی ہے وہ محض ڈم کی وجہ سے آتی ہے۔ جب ہم کسی جھاڑی میں چھپے ہوئے ہوں تو ڈم باہر نکلی رہتی ہے۔ اور یوں بھی ہمیں دُم سے پکڑا جاسکتا جا سکتا ہے۔ پس چونکہ چونکہ ہم ہم تمام گیدڑوں پر دم ڈم کی وجہ وجہ سے سے مصیبتیں اُترتی ہیں اس لئے میں قومی ترقی و حفاظت کیلئے تجویز پیش کرتا ہوں کہ ہمیں اپنی دمیں کٹا دینی چاہئیں ۔ نو جوان گیدڑ تو جیسے آج کل کے نوجوان کانگرس کی ہر تحریک پر نعرے لگانے شروع کر دیتے ہیں بڑے جوش سے آگے بڑھے اور انہوں نے کہا۔ آپ ہمارے قومی لیڈر ہیں اور آپ کی تجویز نہایت ہی مفید ہے۔ ہماری بھی یہی رائے ہیں کہ ہم اپنی ڈمیں کٹوادیں لیکن ایک بڑھا گیدڑ اُٹھا اور اس نے کہا جناب نے جو کچھ فرمایا وہ درست اور بجا ہے۔ لیکن آپ ذرا اپنی پیٹھ تو پھیریں اگر آپ کی دُم موجود ہے تو آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر لیکن اگر آپ کی دُم کٹی ہوئی ہے تو آپ کی تجویز کا ایک ہی مطلب ہے اور وہ یہ کہ آپ محض اپنی ندامت کو دور کرنے کیلئے ہماری دُمیں بھی کٹوانا چاہتے ہیں۔ بھلا کونسا 321