خطبات محمود (جلد 14) — Page 316
خطبات محمود (۳۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک رویا کی تشریح نیا آسمان اور نئی زمین بنانے کا مطلب (فرموده ۸ - دسمبر ۱۹۳۳ء) سال ۱۹۳۳ء تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک رؤیا کا ذکر فرمایا ہے جو آپ نے اپنی الہامی زندگی کے ابتدائی ایام میں دیکھا تھا۔ وہ رؤیا اغیار کے نزدیک ہمیشہ محل اعتراض بنا رہا ہے ۔ لیکن ہمارے لئے یہ سوچنے کی بات ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ کو غرض کیا تھی کہ وہ ایسا ر و یا دکھاتا جس پر اعتراض پڑتا۔ اور جس سے کوئی فائدہ مقصود نہ ہوتا ۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ جب کسی بات کو استعارہ یا تشبیہ کے ساتھ بیان کیا جائے تو اس سے خاص فائدہ مد نظر ہوتا ہے۔ بیشک استعارات و تشبیهات بعض دفعہ فتنہ کا موجب بھی ہو جاتی ہیں ۔ مگر ان کا استعمال اس وقت جائز ہے جب نقصان کی نسبت فائدہ زیادہ ہو۔ حضرت مسیح ناصری نے جب خدا تعالیٰ کے متعلق یہ کہا کہ وہ تمہارا باپ ہے تو اس استعارہ اور تشبیہ نے بہت نقصان پہنچایا۔ کروڑ ہا انسان غلطی سے حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا تصور کرنے لگے اور کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کے ایمان کی خرابی اس استعارہ کے استعمال سے ہی پیدا ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو کسی بڑے فائدہ کیلئے ہی روا رکھا ہے ۔ حضرت مسیح علیہ السلام سے متعلق واقعات کی ذمہ داری مسیحیوں پر ہی ہے۔ ہمارے لئے قابلِ حل وہ دقتیں ہیں جو احمدیت کے متعلق ہیں اور ان میں لئے وہ سے ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ رویا ہے کہ مجھے پیدائش عالم کی قدرت دی و 314