خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 26

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کرتا ہوں کہ تو اس وقت میرے باپ کی سزا بھی مجھ پر ڈال دے اور مجھے زیادہ لمبے عرصہ کیلئے دوزخ میں پھینک دے، تا کہ میں اپنے باپ کو تکلیف میں نہ دیکھ سکوں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ دیکھو میرے بندے کے دل میں محبت کا بیج موجود ہے ، جاؤ میں نے تم دونوں کو معاف کیا اس طرح وہ دوزخی جنتی بن گیا۔ مگر اس لئے کہ اس کے دل میں اطاعت کا بیج موجود تھا جو آخری وقت میں پھوٹ پڑا۔ حالانکہ وہ ایسا وقت ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں آتا ہے اس وقت رشتہ دار ایک دوسرے پر اپنی سز ا ڈالنے کی کوشش کریں گے اور چاہیں گے کہ کسی طرح ان کا چھٹکارا ہو جائے ہے ۔ ایسے موقع پر وہ جس نے ساری عمر نافرمانی میں گزار دی ، اپنے باپ کی سزا بھگتنے کے لئے تیار ہو گیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بدی خواہ کتنی بڑھ جائے سے نیکی کے پیج کو نہیں مٹا سکتی۔ ایسے آدمی میرے نزدیک ہوں گے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یقینا ہوں گے جن کو قیامت کے دن دوزخ میں ڈالنے کا حکم ہوگا تو کہہ دیں گے کہ ہم بیشک سزا کو برداشت کریں گے اور دُگنے یا لگنے عرصہ کیلئے جہنم میں پڑنا بھی گوارا کر لیں گے مگر اے خدا! تیری ناراضگی ہم برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ سزا اصل چیز نہیں اصل چیز خفگی اور ناراضگی ہے جو محبت کے تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ شخص جو سزا کو اصل چیز قرار دیتا ہے، وہ گویا محبت کا انکار کرتا ہے۔ ( الفضل ۲۶ فروری ۱۹۳۳ء) ا بخاری کتاب المغازی باب غزوة الطائف أعين بخاری کتاب التفسير تفسير - سورة السجدة زير آيت فلا تعلم نفس ما اخفى لهم من قرة بخاری کتاب المناقب باب مناقب قريش ت بخاری کتاب المغازی باب قتل حمزة ه المعارج: ۱۲ تا ۱۴ 24