خطبات محمود (جلد 14) — Page 290
خطبات محمود (۳۱) سال ۱۹۳۳ء سیرت النبی کے جلسوں کے متعلق اہم ہدایات (فرموده ۲۴ نومبر ۱۹۳۳ء) تشهد ، تعو ذاور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ پرسوں انشاء اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی السلام کے حالات سے دنیا کو آگاہ کرنے اور اپنے نو جوانوں کو ان کے احسانات سے واقف کرنے کا دن آنے والا ہے۔ اچھی سے اچھی چیز بڑے ہاتھوں میں پڑ کر خراب ہو جاتی ہے۔ اور بڑی سے بڑی چیز اچھے ہاتھوں میں آکر کچھ نہ کچھ اپنی شکل بدل لیتی ہے۔ بلکہ کئی ایسی چیزیں جنہیں لوگ بُرا سمجھتے ہیں، وہ اچھے ہاتھوں میں آکر نیکیاں اور خیر بن جاتی ہیں۔ اس دن کے متعلق بھی ہمارے دوستوں کو خوب اچھی طرح یاد رکھنا چاہئیے کہ اسلام کسی تصنع اور کسی ایسے ذریعہ کو جو اپنی ذات میں نا جائز و نا پسندیدہ ہو، اچھے کام کیلئے جائز و پسندیدہ نہیں سمجھتا۔ ایسے ہی جذبات کے اظہار کے مواقع ہوتے ہیں جبکہ قوموں کے قدم لڑکھڑا جایا کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسا پیدا کیا ہے کہ وہ ہر وقت ا جسير صراط پر کھڑا ہے ۔ ذرا سی لغزش اس کو اور اس کی قوم کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔ شیعوں کے تعزیوں کو دیکھتے ہو ، ان کی کہاں سے کہاں نوبت پہنچ گئی ، غم کے اظہار کی بعض کیفیات بعض نے ظاہر کی ہوں گی ۔ بعد میں آنے والوں نے ان پر مبالغہ کی کوشش کی ۔ پھر لوگوں میں سے بعض کمزور ہوتے ہیں ۔ انہیں لیڈری کی خواہش ہوتی ہے ۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ پہلوں سے زیادہ کام کر کے دکھا ئیں ۔ اور جب جائز حد بندی ختم ہو جائے تو چونکہ نا جائز کا ہی دروازہ کھلتا ہے ۔ اس لئے ان میں ایسی باتیں پیدا ہو گئیں ۔ ابتداء میں محض امام حسین کی ہی۔ 288