خطبات محمود (جلد 14) — Page 288
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء خوبی نہیں ہوسکتی۔ اور ایسے شخص کی مثال ایسی ہے جسے کوئی شخص سور بیچنے کیلئے گھر سے چلا۔ راستہ میں ایک کھمبے کے ساتھ اسے باندھ کر خود قضائے حاجت کیلئے گیا۔ اس کھمبے کی تختی کمزور تھی۔ سور نے جو زور لگا یا تو وہ دوسری طرف ہو گئی اور اس کا رخ بدل گیا ۔ وہ جب آیا تو بغیر اس کے کہ وہ غور کرتا کہ میں کدھر سے آیا تھا اور کدھر کو جانا ہے۔ اس نے سور کو کھولا اور جس طرف تختی کا رُخ تھا اسی طرف لے کر چل پڑا۔ آخر جب گھر پہنچا تو کہنے لگا۔ میں نے ساری دنیا کا سفر کر لیا ہے اور زمین گول ہونے کی وجہ سے پھر گھر آ گیا ہوں۔ تو ایسے لوگ محض تختی کے اُلٹ جانے سے اُلٹے چل پڑتے ہیں اور آنکھ کھول کر نہیں دیکھتے۔ اس قسم کی فطرت ہمیشہ نقصان کا موجب ہوتی ہے۔ جس شخص کے دل کی کھڑکیاں کفر کی طرف سے بند ہوں ، اس کے اندر کفر کی بات داخل ہی کیسے ہو سکتی ہے۔ اور ایمان اس کے اندر داخل ہونے سے کس طرح رہ سکتا ہے۔ کمرہ سے باہر دری جھاڑی جائے تو کمرہ کے اندر کی ہر چیز پر گرد نظر آتی ہے۔ پھر سوچنا چاہئے کیا ایمان ہی ایسی کمزور چیز ہے کہ کھڑکیاں کھلی ہوں اور وہ اندر نہ آسکے ۔ حالانکہ ایمان نہایت لطیف چیز ہے۔ اور ہر لطیف چیز زیادہ پھیلتی ہے۔ اگر کسی نے ایمان کی طرف کی کھڑکی کھولنی ہو تو اس کا یہی طریق ہے کہ اشداء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُم پر عمل کرے۔ ایسا انسان خطرہ سے باہر ہو جاتا ہے۔اسے اگر دشمنوں میں بھی پھینک دو تو وہ ان میں سے بھی بعض کو اپنے ساتھ لے آئے گا۔ اس پر کوئی اثر نہ ہوگا اور اگر مومنوں میں ۔ ہو تو اور بھی بڑھتا اور ترقی کرتا جائے گا۔ پس جو لوگ ایمان کی اصلاح چاہتے ہیں انہیں چاہئیے کہ اس آیت پر غور کریں۔ اور اپنے رشتہ داروں ، بھائیوں ، دوستوں، افسروں، ماتحتوں غرضیکہ کسی موقع پر جب مذہب اور تصدیق کلمات و نشانات الہیہ کا معاملہ ہو تو کسی کی پرواہ نہ کریں۔ اور اپنے آپ کو ان کی باتوں سے بالکل متاثر نہ ہونے دیں۔ ہاں جب کوئی دینی معاملہ ہو تو ان کے دلوں کی کھڑکیاں بالکل کھلی ہوں تا اللہ تعالیٰ کا نوران کے اندر داخل ہو سکے۔ ل الفتح : ٣٠ السيرة الحلبية جلد ۱ صفحه ۳۰۹ المطبعة الازهرية مصر ١٩٣٥ء ابن دغنه 286 ( الفضل ۲۳ نومبر ۱۹۳۳ء)